رسائی کے لنکس

logo-print

گوانتا نامو کے قیدیوں کو چھوڑا گیا تو وہ القاعدہ سے جاملیں گے: ارکانِ کانگریس


امریکہ کو چاہئیے کہ وہ قیدیوں کو رہا کرکے صومالیہ، افغانستان، پاکستان یا سعودی عرب نہ بھیجے۔


امریکی کانگریس کے بعض ارکان کا کہنا ہے کہ اگر خلیج گوانٹانامو، کیوبا کے جیل کیمپ کے قیدیوں کو رہا کرکے واپس اُن ملکوں کو بھیجا گیا، جہاں دہشت گرد گروپ پھل پھول رہے ہیں، تو وہ دوبارہ القاعدہ کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔


امریکی ایوانِ نمائندگان کے ری پبلکن رکن پیٹر ہوکسٹرا نے اتوار کے روز سی بی ایس کے ایک پروگرام میں حصّہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو چاہئیے کہ وہ قیدیوں کو رہا کرکے صومالیہ، افغانستان، پاکستان یا سعودی عرب نہ بھیجے۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے خیال ان ملکوں کو واپس جانے والے قیدیوں کی توجہ، بیشتر اپنے ہی ملک میں حملے کرنے سے ہٹ کر، امریکہ پر حملے کرنے پر مرکوز ہوجائے گی۔


امریکی سینیٹر ڈِیانے فائین سٹائین نے، جو کہ ڈیمو کریٹ ہیں، اس خیال سے اتفاق کیا اور کہا کہ انہوں نے اس بات کی تصدیق کرلی ہے کہ خلیج گوانتانامو سے رہائى پانے والے کم سے کم 24 سابق قیدی یمن میں واپس میدانِ جنگ میں پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے خیال ان لوگوں کے دوبارہ لڑائى میں شامل ہونے کی وجہ یہ ہےکہ انہیں اپنے گوانتانامو کے تجربے سے اپنے آپ کو پُر امن معاشرے میں بحال کر لینے میں مدد نہیں ملی اور اس لیے بھی کہ انتہا پسند مسلمانوں کی پُر تشدّد دنیا ہی وہ واحد جگہ ہے، جو انہیں قبول کرسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG