رسائی کے لنکس

logo-print

ہفتے میں دو چھٹیاں ختم کرنے کا اعلان، چھٹی کے تنازع کی یاد تازہ


حکومت پاکستان نے ہفتہ وار دو چھٹیاں ختم کردی ہیں اور27نومبر سے ہفتے میں صرف ایک چھٹی ،اتوار کوہوا کرے گی۔

غالباً یہ فیصلہ پاکستان کے صنعتی حلقوں کے دباوٴ کا نتیجہ ہے ۔ کاروباری طبقہ اور صنعتی حلقے شروع ہی سے ہفتے کی چھٹی کی مخالفت کررہے تھے کیونکہ بینک بند ہونے کی وجہ سے لین دین ممکن نہیں ہوپارہا تھا ۔ پھر یہ چھٹی باقی دنیا سے تجارتی حوالے سے بھی رکاوٹ بنی ہوئی تھی لہذا آج شام وزیراعظم کی جانب سے دوچھٹیاں ختم کرنے کی سمری پر دستخط کردیئے گئے اور یوں ایک مرتبہ پھر پاکستان میں سرکاری چھٹی صرف اتوار کو ہوا کرے گی۔

دوچھٹیوں کا فیصلہ ملک میں جاری توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے کیا گیا تھا تاکہ زیادہ سے زیادہ توانائی بچائی جاسکے۔ مبصرین کے مطابق گزشتہ حکومت نے توانائی کے اسی بحران کی آڑ لے کر ملک میں گھڑیاں آگے اور پیچھے کرنے کا فیصلہ کیا تھاجو بری طرح ناکام رہا تھا ۔ آج کا فیصلہ بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ فیصلہ بھی کسی طرح سود مند ثابت نہیں ہوا۔ وزارت پانی اور بجلی نے بھی سردیوں میں دو چھٹیوں کو غیر ضروری قرار دیاہے۔

مبصرین کے مطابق گھڑیوں کو آگے پیچھے کرنا اور دو چھٹیوں کا اعلان سود مند کم اور نقصان دہ زیادہ رہا۔کیونکہ جتنی مدت دو چھٹیاں نافذ رہیں اس مدت میں ہونے والا نقصان ناقابل تلافی ہے۔ اس فیصلے سے ملک کئی سال پیچھے چلا گیا ہے۔

مبصرین کی رائے ہے کہ دو چھٹیوں کا فیصلہ دانشمندانہ تھا ہی نہیں۔ حکومت نے مشیروں کے فیصلے کو مان کر معیشت کے ساتھ دشمنی کی۔ بجائے اس کے کہ بجلی کی قلت اور لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لئے سستی بجلی کے حصول کے طریقے اپنائے جاتے دو چھٹیوں کا قاتلانہ فیصلہ کیا گیا اور نتیجہ یہ ہے کہ معیشت جو پہلے ہی زخمی ہے ، یہ فیصلہ اس پر کاری ضرب ثابت ہوا۔

دوسری جانب تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو چھٹیوں کا فیصلہ ہر دور حکومت میں اور کسی نہ کسی روپ میں ایک مسئلہ رہا ہے ۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کے دور تک ہفتہ وار چھٹی اتوار کو ہی ہوا کرتی تھی مگر سابق صدر ضیاء الحق نے جہاں جمہوری حکومت کے ہر فیصلے کو تہس نہس کیا وہیں اتوار کی چھٹی بھی انہیں ایک آنکھ نہ بھائی اور ہفتہ وار چھٹی اتوار کے بجائے جمعہ کو کردی گئی۔ ضیاء الحق نے جمعہ کی چھٹی کو اسلامی معاشرے سے تعبیر کیا اور کہا کہ چونکہ اسلام میں سب سے افضل دن جمعہ ہے لہذا چھٹی بھی جمعہ کو ہونی چاہئے ۔

نوے کے عشرے میں نواز شریف برسراقتدار آئے ، گو کہ وہ ضیاء الحق کے دور میں ہی پروان چڑھے اور ضیا ء کے قریبی بھی گردانے گئے مگر انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ اسلام میں جمعہ کی چھٹی ہو ایسا کہیں نہیں لکھا ۔ جمعہ کے بجائے اتوار کی چھٹی پر پورے ملک میں گرما گرم بحث چھڑ گئی۔ کئی جماعتوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیا اور اپنی اپنی دلیل بھی پیش کی مگر نواز شریف نے کسی کی نہ سنی اور ہفتہ وار چھٹی کے لئے اتوار کا دن منتخب کیا۔ عرصے تک لوگ یہی گمان کرتے رہے کہ حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑے گا مگر اس سے پہلے کہ فیصلہ واپس لیا جاتا نواز حکومت کو اقتدار سے الگ کردیا گیا۔

اب ایک مرتبہ پھر ہفتے کی چھٹی ختم کرنے کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے کہ اس طرح کے فیصلے وقت کے زیاں کے علاوہ کچھ نہیں۔

XS
SM
MD
LG