رسائی کے لنکس

logo-print

’’خودکش حملے کا نشانہ بننے والا اڈہ سی آئی اے کا اہم علاقائی مرکز تھا‘‘


اس ہفتے مشرقی افغانستان میں امریکی سی آئی اے کے ایک اڈے پر ہونے والا خودکش دھماکا علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف امریکہ کے خفیہ آپریشن پر بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ انکشاف امریکی خفیہ اداروں کے بعض سابق عہدے داروں نے کیا ہے جنہیں حکام نے اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

بدھ کو مشرقی صوبے خوست میں ہونے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والے سات امریکی اہل کاروں میں’’ فاروڈ آپریشن بیس چیپ مین’’ نامی اس اہم اڈے کے سربراہ بھی شامل ہیں جب کہ چھ دوسرے اہل کار زخمی ہوگئے تھے۔ طالبان شدت پسندوں نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

خوست میں اس مرکز پر موجود سی آئی کے حکام پاک افغان سرحدی علاقوں میں خفیہ معلومات جمع کرنے کے علاوہ عسکریت پسند کمانڈروں کو عموماً بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں سے ہلاک کرنے کی کارروائیوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور بظاہر افغان فوج کی وردی میں ملبوس تھا اور اسے اپنا مقامی مخبر جانتے ہوئے شاید اس کی تلاشی نہیں لی گئی۔ امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی یا سی آئی اے نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو ہونے والے خودکش حملے میں اس کے سات ملازمین ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے تھے۔ ادارے نے مزید کوئی معلومات جاری نہیں کی ہیں۔

صدر براک اوباما نے ایک بیان میں سی آئی اے کے ساتھ اظہار افسوس کرتے ہوئے اس ادارے کی شاندار کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ ان کے بقول سی آئی اے کی خدمات اور کوششوں کے باعث دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنا کر نہ صرف امریکیوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا بلکہ امریکہ اس کے اتحادی اور ساتھی آج زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں۔

طالبان نے ملک کے جنوبی حصے میں ہونے والے اس حملے کا دعویٰ بھی کیا ہے جس میں کینیڈا کے چار فوجی اور ایک صحافی ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان کے خوست صوبے کی سرحدیں پاکستان کے شمالی وزیرستان سے ملتی ہیں۔ امریکی حکام کے بقول پاکستان کے اس قبائلی علاقے میں القاعدہ اور افغان طالبان نے اپنی تربیت گاہیں قائم کر رکھی ہیں جنہیں سرحد پار غیر ملکی فوجوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG