رسائی کے لنکس

logo-print

حکومت مخالف قیاس آرائیوں کے خلاف پیپلز پارٹی کی دفاعی مہم


وزیراعظم یوسف رضا گیلانی

وفاقی حکومت کی کارکردگی پر بڑھتی ہوئی تنقید اور سیاسی منظر نامے پر وسط مدتی تبدیلی کے بارے میں زور پکڑتی ہوئی قیاس آرائیوں کے بعد حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک منظم انداز میں اپنے دفاع کا آغاز کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے کہا ہے کہ وسط مدتی تبدیلی اور موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے کی باتیں کرنے والے اُن کے بقول سیاسی طور پریتیم ہوگئے ہیں۔

اتوار کے روز راولپنڈی میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور پیپلز پارٹی کے سیاسی مخالفین کو چاہیئے کے وہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی انداز میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایک روز قبل لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران بھی اصل موضوع سے ہٹ کر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے حکومت کے ناقدین کو مخاطب کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ پیپلز پارٹی اپنے مخالفین سے خوف زدہ نہیں ہے اور اسے غیر آئینی طور پر اقتدار سے ہٹانا ان کے بقول ”ملک توڑنے کی سازش“ کے مترادف ہوگا۔

بظاہر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے حکومت مخالف تجزیوں پر اظہار برہمی کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند ہو جانا چاہیئے۔ ” اب آپ سمجھ جائیں کہ آپ کے کہنے نا کہنے سے حکومتیں نہیں بدلتیں“۔

حکومت کی جانب سے جارحانہ انداز میں اپنا دفاع ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب مخلوط حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کی ایک اہم اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین پہلے ہی یہ بیان دے چکے ہیں کہ عوام سمیت فوج اور عدلیہ کو جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کی زیر سرپرستی چلنے والی حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا چاہیئے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں مسلم لیگ کے دو دھڑوں کا انضمام بھی ہوا ہے جن کے رہنماؤں نے حکومت کے خلاف ایک بھرپور مہم چلانے کا عزم کیا ہے۔

ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب سے نمٹنے کے سلسلے میں مبینہ طور پر سست روی کا شکار امدادی سرگرمیوں اور حکومت کی غیر مقبول پالیسیوں کے علاوہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد نا کرنے پر بھی پیپلز پارٹی کی حکومت پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک کے سیاسی منظر نامے پر ہونے والی ان تبدیلیوں نے حکومت پر اپنی کارکردگی میں بہتری لانے سے متعلق دباؤ میں اضافہ کردیا ہے اور ان کے خیال میں جوابی بیانات کی بجائے کارکردگی میں بہتری سے ہی حکمران پیپلزپارٹی اس صورت حال کا مقابلہ کر سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG