رسائی کے لنکس

logo-print

میموگیٹ: تحقیقات پارلیمانی کمیٹی کے سپرد


حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کو امریکی شہری منصور اعجاز کی طرف سے سابق امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے گئے مبینہ میمو کی تحقیقات کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کو امریکی شہری منصور اعجاز کی طرف سے سابق امریکی ایڈمرل مائیک مولن کو لکھے گئے مبینہ میمو کی تحقیقات کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

پاکستان کے سرکاری خبررساں اداے اے پی پی کے مطابق پیر کو وزیراعظم سیکرٹریٹ سے جاری ایک حکم نامے میں کہا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اس معاملے کی چھان بین کرے۔ حکومتی ہدایات کے مطابق یہ کمیٹی منصور اعجاز کی طرف سے تحریر و ارسال کردہ میمو کی چھان بین کرے گی اور اس بارے میں نتیجہ خیز سفارشات مرتب کرے گی۔

وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے اس حکم پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ، سیکریٹری کابینہ اور سیکرٹری قانون و انصاف کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔

پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقّانی پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مسٹر اعجاز کے ذریعے امریکی افواج کے سابق سربراہ ایڈمرل مائیک ملن کو ایک میمو بھیجا تھا جس میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی نازک صورتحال میں پاکستانی افواج کو کسی قسم کی فوجی بغاوت سے بعض رکھنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اس میمو سے کھڑے ہونے والے تنازعے کے نتیجے میں امریکہ میں پاکستانی سفیر حقّانی کو استعفٰی دینا پڑا اور ان کی جگہ شیری رحمان کو نیا سفیر مقرر کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG