رسائی کے لنکس

logo-print

کرغزستان نسلی فسادات میں ہلاکتوں میں اضافہ


کرغز صدر نے غیر ملکی گروہوں پر ملک کے حالات خراب کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ ان کے بقول تشدد کے ان واقعات کا مقصد صدارتی اختیارات میں کمی کے لیے رواں ماہ ہونے والے آئینی ریفرینڈم میں خلل ڈالنا ہے

کرغزستان میں وزارت صحت نے کہا ہے کہ ملک میں جاری نسلی فسادات میں جمعرات سے اب تک 82 افرادہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔اتوار کو یہ اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ملک کے جنوبی شہروں اوش اور جلال آباد میں خونریز جھڑپیں کرغزگروپوں اور اقلیتی ازبک برادری کے درمیان ہو رہی ہیں۔

تشددکے اِن واقعات کو دوسرے علاقوں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے ہفتہ کے روز کرغزستان کی عبوری حکومت نے دونوں شہروں میں ہنگامی حالت نافذ کرکے کرفیو لگا دیا تھالیکن صورت حال بدستور کشیدہ ہے ۔ سکیورٹی فورسز کو کرفیو والے علاقوں میں ضرورت پڑنے پر فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

ہنگاموں کے دوران مسلح کرغز گروپوں نے ازبک اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں پر حملے کر کے انھیں نذر آتش کردیا جس نے ہزاروں افراد کو علاقہ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کردیا ہے۔ ہمسایہ ملک ازبکستان کی وزارت خارجہ نے اس صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس سال اپریل میں ایک خونی بغاوت کے ذریعے حزب ِاختلاف نے صدر کُمانبک بکایف کا تختہ اُلٹنے کے بعد اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ لیکن عبوری حکمران امن وامان برقرار رکھنے میں سخت مشکلات سے دوچار ہیں اور عالمی رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ کرغزستان کے حالات ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جاسکتے ہیں۔

اتوار کے روز جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کرغزستان کی عبوری حکومت سے کہا ہے کہ وہ تشدد کا نشانہ بننے والی اپنی ازبک اقلیت کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

تنظیم نے ہمسایہ ملکو ں خصوصاََ ازبکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ہنگاموں سے جان بچا کر فرار ہونے والے ہزاروں افراد کو پناہ دینے کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھیں۔

کرغزستان کی عبوری حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ وہ نسلی فسادات پر قابوپانے میں ناکام ہو گئی ہے۔

ملک کی عبوری صدر روزا وتن بایف نے ہفتہ کو ایک خط کے ذریعے روس کے صدر دِمتری مدویدیف سے اپنی فوجیں جنوبی کرغزستان بھیجنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالات قابو سے باہر ہو تے جار رہے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے بشکک کو بیرونی مدد کی ضرورت ہے ۔ لیکن روس نے فوج بھیجنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے صرف انسانی بنیادوں پر امداد کی پیشکش کی ہے۔


امریکہ نے ہفتہ کو ایک بیان میں جنوبی کرغزستان میں امن وامان کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے خونریز تشدد کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔

دفاعی اعتبار سے اہمیت کی حامل اس وسطی ایشیائی ریاست میں امریکہ اور روس نے اپنے فوجی اڈے بھی قائم کر رکھے ہیں۔

کرغز صدر نے غیر ملکی گروہوں پر ملک کے حالات خراب کرنے کی ذمہ داری عائد کی ہے تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔ ان کے بقول تشدد کے ان واقعات کا مقصدصدارتی اختیارات میں کمی کے لیے رواں ماہ ہونے والے آئینی ریفرینڈم میں خلل ڈالنا ہے

۔

XS
SM
MD
LG