رسائی کے لنکس

logo-print

خفیہ جوہری تجربات کے کھوج لگانے والی لیبارٹری


شمالی کوریا کی جوہری تجربات کی تنصیب جسے مبینہ طور پر تباہ کر دیا گیا۔ فائل فوٹو

دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کی خفیہ تیاری کے اقدامات کا پتا لگانے والے سائنس دانوں کو اب مصنوعی ذہانت کے ایک نئے اور جدید نظام سے مدد ملنا شروع ہو گئی ہے۔ ایٹمی دھماکے چاہے زیر زمین ہی کیوں نہ کئے گئے ہوں، تابکاری گیسوں کے نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔

اس نئے نظام کے ذریعے بڑی مقدار میں دستیاب ہونے والی معلومات میں سے چھانٹی کرتے ہوئے یہ پتا لگانا ممکن ہو گیا ہے کہ تابکاری کے کون سے نشانات ایٹمی دھماکوں سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔

یہ معلومات اس لئے بھی اہم ہیں کہ کچھ حلقوں کے مطابق شمالی کوریا اور ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا کام خفیہ طور پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی کی ریاست واشنگٹن کے مشرقی حصے میں پہاڑوں کے نیچے 25 میٹر کی گہرائی پر ایک صاف کمرے میں اس کرہ ارض کا ایک انتہائی جدید نظام نصب کیا گیا ہے جو حالیہ طور پر تربیت یافتہ گہرے اعصابی نیٹ ورک کے ذریعے دنیا بھر میں کسی بھی جگہ ہونے والی جوہری سرگرمی کے سگنل وصول کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

پیسفک نارتھ ویسٹ قومی لیبارٹری کے ایک حصے کے طور پر یہ آلات تابکاری کی پیمائش کر سکتے ہیں۔ اس بارے میں اس لیبارٹری کی ایملی میس نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ’’ہمیں جن سگنلز کی تلاش ہے، وہ ناکارہ ہونے والے تابکاری اثرات ہیں جو ڈیٹیکٹرز میں موجود گیس کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ سگنلز اور ان کی مقدار ہمیں یہ بتاتی ہے کہ گیس میں جمع ہونے والی توانائی کی مقدار کتنی تھی۔ اس سے ہمیں آئی سوٹوپس کا پتا لگانے میں مدد ملتی ہے۔‘‘

یہ آلات اس قدر حساس ہیں کہ وہ انسان کی طرف سے تیار کردہ آئی سو ٹوپس کا پتا جوہری سرگرمی ختم ہونے سے پہلے ہی لگا سکتے ہیں۔ یہ ان سرگرمیوں کا بھی کھوج بھی لگا سکتے ہیں جنہیں عمداً خفیہ رکھا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں خاص طور پر آرگون ۔ 37 کا پتا لگانے میں خصوصی دلچسپی پائی جاتی ہے جو زمین میں نیوٹرونز کے کیلشیم سے اختلاط کے ذریعے جنم لیتی ہے۔ پیسفک فارتھ ویسٹ قومی لیبارٹری کے تحقیقی سائنس دان کریگ آل سیٹھ بتاتے ہیں کہ زیر زمین جوہری تجربے جیسی سرگرمی سے بڑی مقدار میں آرگون ۔ 37 پیدا ہونے کی توقع ہوتی ہے۔ لہذا مختلف انداز کے جوہری معاہدوں اور سمجھوتوں کے ایک حصے کے طور پر انہیں اس میں خاصی دلچسپی ہے۔

ان سگنلز کو پلسز کہا جاتا ہے۔ ڈیپ لرننگ سے موسوم مصنوعی ذہانت کے اس نظام کو استعمال کرتے ہوئے سائنس دان غیر متعلقہ سگنلز کو الگ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور وہ آئی سو ٹوپس کے سگنلز کا باآسانی پتا لگا سکتے ہیں۔

عام طور پر ماہرین اپنی مخصوص مہارت کے ذریعے ایسی سرگرمیوں کا کھوج لگاتے رہے ہیں۔ تاہم اس نئے نظام کے ذریعے یہ کام کہیں زیادہ تیز رفتاری اور درستگی سے انجام پاتا ہے۔ یوں اس کے ذریعے ان ممالک کے بھی جوہری تجربات کا بخوبی پتا لگایا جا سکتا ہے جو اپنی جوہری ترقی کی سرگرمیوں کو عالمی معاہدں کے تحت بند کرنے پر بظاہر رضامند ہو جاتے ہیں لیکن خفیہ طور پر انہیں جاری رکھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG