رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری میزائلوں کا پتا لگانے کے لیے پینٹاگون کا خفیہ منصوبہ


انسان کو اپنی ذہانت پر ہمیشہ ناز رہا ہے اور اسے یہ زعم رہا ہے کہ وہ اپنی ذہانت اور لیاقت کی بنا پر دوسرے سیاروں پر کمند ڈالنے کی بھی اہلیت رکھتا ہے۔ تاہم اب شاید وقت آ گیا ہے کہ انسان اپنی ذہانت کی حدود کا ادراک کرتے ہوئے کمپیوٹر نظام کی مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرے۔

امریکی فوج نے ایک ایسا ہی خفیہ ریسرچ پروگرام شروع کر دیا ہے جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جوہری ہتھیاروں کے حامل میزائل کی لانچ کا قبل از وقت پتہ لگانا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا سمیت کسی بھی جگہ موجود موبائل لانچرز کا پتہ لگا کر اسے ہدف بنانا بھی اس پروگرام کا حصہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس پروگرام کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔ تاہم پروگرام کیلئے ایک خطیر رقم مختص کی جا چکی ہے۔

اُدھر با خبر ذرائع نے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اس کے علاوہ متعدد دیگر پروگرام بھی شروع کئے گئے ہیں جن کا مقصد کسی بھی ممکنہ جوہری میزائلوں کے حملے سے امریکہ کو محفوظ رکھنا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ پروگرام کامیاب ہو گیا تو کمپیوٹر کا نظام سٹلائیٹ سے حاصل شدہ تصاویر سمیت بہت بڑی مقدار میں تیار کئے گئے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے خود سوچنے کی اہلیت کا حامل ہو گا۔ کمپیوٹر نظام کی سوچنے کی یہ اہلیت رفتار اور درستگی کے اعتبار سے انسانی سوچ سے کہیں زیادہ آگے ہو گی اور یہ کسی بھی جوہری میزائل کی تیاری کی علامات کا فوری طور پر پتہ لگا سکے گا۔

پینٹاگون کے ایک اہلکار نے رائیٹرز کو بتایا، ’’ہم اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کسی بھی میزائل کا داغے جانے سے پہلے ہی پتہ لگا لیں گے۔ یوں اس میزائل کو تباہ کرنے کیلئے امریکی فوج کے پاس زیادہ وقت ہو گا۔‘‘

متعدد امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اگلے سال کے مالی بجٹ میں مصنوعی ذہانت کے ایسے پروگراموں کیلئے مختص رقم میں تین گناہ اضافہ کرتے ہوئے اس 8 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجٹ میں رکھی گئی یہ رقم بہت زیادہ نہیں ہے، تاہم یہ اقدام اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ فوجی قوت میں تیزی سے اضافہ کرنے والے حریف ملک روس اور شمالی کوریا کی جانب سے جوہری حملے کے ممکنہ اقدام کے پیش نظر امریکہ اس پروگرام کو بہت زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG