رسائی کے لنکس

logo-print

بشار الاسد کی ہتھیار ڈالنے پر باغیوں کو عام معافی کی پیشکش


صدر بشار الاسد اور روس کے وزیر دفاع سرگئی شائیگو نے مزید کہا ہے کہ حلب میں محصور لوگوں کے لیے چار راستے کھولے جائیں گے جن میں سے تین عام شہریوں اور اُن باغیوں کے لیے ہوں گے جو ہتھیار رکھنے پر آمادہ ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد نے جمعرات کو ایک بیان میں اُن باغیوں کے لیے عام معافی کی پیشکش کی ہے جو آئندہ تین روز میں حکام کے سامنے اپنے ہتھیار رکھ دیں گے۔

صدر بشار الاسد اور روس کے وزیر دفاع سرگئی شائیگو کی طرف سے ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ حلب میں محصور لوگوں کے لیے چار راستے کھولے جائیں گے جن میں سے تین عام شہریوں اور اُن باغیوں کے لیے ہوں گے جو ہتھیار رکھنے پر آمادہ ہیں۔

جب کہ چھوتھا راستہ اُن باغیوں کے لیے ہو گا جو اپنے اسلحے سمیت شہر سے جانا چاہتے ہیں۔

ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں روس کے وزیر دفاع سرگئی شائیگو نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادیمر پوٹن حلب میں ’’دہشت گردوں‘‘ کی طرف سے یرغمال بنائے لوگوں اور ہتھیار ڈالنے پر آمادہ باغیوں کے لیے جلد انسانی ہمدردی کے بنیاد پر ایک بڑا امدادی آپریشن شروع کریں گے۔

روس کے وزیر دفاع نے کہا کہ حلب کے باہر خوراک اور ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔

حلب کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شامی حکومت نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق لگ بھگ ڈھائی لاکھ عام شہری حلب میں محصور ہیں۔

XS
SM
MD
LG