رسائی کے لنکس

خود ساختہ دھرم گرو آسا رام کو جنسی زیادتی کے معاملے میں عمر قید


آسارام کو گرفتار کر کے لیجایا جا رہا ہے۔ فائل فوٹو

جودھپور کی ایک عدالت نے جنسی زیادتی کے معاملے میں خود ساختہ دھرم گرو 79 سالہ آسا رام کو موت تک عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ انھیں 2013 میں جودھپور شہر کے قریب اپنے آشرم میں ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم پایا گیا۔ ان پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

اسپیشل جج مدھوسودن شرما نے جودھپور جیل میں، جہاں آسارام 2013 سے ہی قید ہیں، ایک عارضی عدالت میں سخت سیکورٹی کے دوران فیصلہ سنایا۔ عدالت نے چند گھنٹے قبل ان کو مجرم قرار دیا تھا۔

سزا سننے کے بعد آسارام رونے لگے۔ ان کے وکلا نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ چونکہ ان کے مؤکل بہت معمر ہیں اور وہ عادی مجرم بھی نہیں ہیں لہٰذا ان کے ساتھ نرمی برتی جائے۔ لیکن اس اپیل کا عدالت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ آسارام نے اپنے جرم سے انکار کیا تھا۔

ان کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔

اترپردیش کے شاہ جہاں پور کی ایک 16 سالہ طالبہ نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ جو کہ ان کی عقیدت مند تھی، ان کے آشرم گئی تھی جہاں انھوں نے پندرہ اور سولہ اگست 2013 کی درمیانی شب میں ان کے ساتھ زیادتی کی تھی۔

لڑکی کے والد نے فیصلہ سننے کے بعد کہا کہ وہ مطمئن ہیں۔ انھوں نے عدالت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار ماہ سے وہ لوگ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے تھے۔ وہ لوگ خوف کے عالم میں جی رہے تھے۔ ان کے بزنس پر برا اثر پڑا ہے۔

خیال رہے کہ دو گواہوںکو مروا دیا گیا، کئی پر حملے کیے گئے اور جانچ کرنے والے پولیس افسر کو دو ہزار کی تعداد میں دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے تھے۔

آسارام نے ضمانت کے لیے بارہ مرتبہ درخواستیں دی تھیں جنھیں مسترد کر دیا گیا۔

ملک و بیرون ملک میں ان کے چار سو آشرم ہیں اور ان کے عقیدت مندوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ان پر اور ان کے بیٹے نارائن سائیں پر سورت کی دو بہنوں کے ساتھ بھی زیادتی کے الزامات ہیں۔ سپریم کورٹ نے پانچ ہفتوں کے اندر اسے نمٹانے کی ہدایت دی ہے۔

کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر راجستھان، گجرات اور ہریانہ ریاستوں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے اور حساس مقامات پر حکم امتناعی نافذ تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG