رسائی کے لنکس

logo-print

جنوب مشرقی ممالک کی تنظیم آسیان کے سربراہ نے کہاہے کہ ان کی تنظیم شمالی کوریا پر یہ دباؤ نہیں ڈال رہی ہے کہ وہ میزائل کا اپنا مجوزہ منصوبہ ترک کردے کیونکہ وہ مستقبل میں پیانگ یانگ کے ساتھ جوہری مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

سورن پٹسوان نے ، جن کے پاس آسیان کی سربراہی ہے، بدھ کو وائس آف امریکہ کے ساتھ شمالی کوریا پر اس ماہ کے آخر میں اپنے میزائل تجربے کا پروگرام ختم کرنے کےلیے بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ پر گفتگو کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آسیان عالمی برداری کی جانب سے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ ملکی مذاکرات کی کوششوں میں ایک تعمیری کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہناتھا کہ یہ امکان موجود ہے کہ یہ مسئلہ جولائی میں تنظیم کے علاقائی فورم میں، جس میں شمالی کوریا بھی شامل ہے، سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آسیان یہ سمجھتی ہے کہ برما کے لیے صبر وتحمل کی مشترکہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے اور اس نے برما کو جمہوریت کی جانب بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG