رسائی کے لنکس

اشرف غنی کا دورہ بھارت، اعلیٰ قیادت سے مذاكرات


بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی افغان صدر اشرف غنی کا نئی دہلی میں استقبال کر رہے ہیں۔ 24 اکتوبر 2017

امریکی وزیر خارجہ ریکس  ٹیلرسن کے بھارت دورے سے عین قبل افغان صدر کے دورے کو انتہائی اہمیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

سہیل انجم

بھارت کے ایک روزہ دورے پر آئے افغانستان کے صدر اشرف غنی اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کے روز نئی دہلی میں ملاقات کی اور باہمی، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اپنے ٹویٹ میں اس ملاقات کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں راہنماؤں نے افغانستان میں سلامتی، خوشحالی اور استحكام کے مشترکہ ہدف کے سلسلے میں بھی گفتگو کی۔ انہوں نے ورکنگ لنچ پر وفود کی سطح پر بھی مذاكرات کیے۔

اس سے قبل صدر رام ناتھ کووند نے راشٹرپتی بھون میں صدر غنی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں کابل، قندھار، غزنی اور پکتیا صوبوں سمیت افغانستان میں ہونے والے دیگر دہشت گرد حملوں کی مذمت کی جن میں کم از کم دو سو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صدر نے کہا کہ بھارت کا خیال ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں جو بھی کوششیں کی جائیں وہ افغانستان کی قیادت اور اس کے کنٹرول میں ہوں۔ خیال رہے کہ طالبان کے ساتھ امن مذاكرات کی بحالی کے لیے 16 اکتوبر کو مسقط میں افغانستان، امریکہ، چین اور پاکستان کے نمائندوں کی میٹنگ ہوئی تھی۔

وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی اشرف غنی سے ملاقات کی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے بھارت دورے سے عین قبل افغان صدر کے دورے کو انتہائی اہمیت کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک سینیر تجزیہ کار ظفر آغا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ اور افغان صدر کے دوروں اور امریکہ کی نئی افغان پالیسی سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں قیام امن کے تعلق سے پاکستان سے دور اور بھارت سے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ امریکہ افغانستان میں بھارتی افواج کی موجودگی چاہتا ہے لیکن ابھی اس سلسلے میں یہاں اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

ظفر آغا نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح امریکہ اور بھارت میں قربت بڑھ رہی ہے اس کے پیش نظر بھارت کے لیے بہت دنوں تک یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ افغانستان میں اپنی فوجیں نہ بھیجے۔ ممکن ہے کہ ابھی اتفاق رائے نہ ہو۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کی راہیں ہموار ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پچھلے دنوں اپنی نئی افغان پالیسی کے اعلان کے وقت بھارت سے کہا تھا کہ وہ افغانستان میں اپنا کردار بڑھائے۔

بھارت کہہ چکا ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی فوجیں نہیں بھیجے گا۔

ریکس ٹیلرسن بھارت کے تین روزہ دورے پر منگل کی شب میں نئی دہلی پہنچ رہے ہیں

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG