رسائی کے لنکس

افغانستان میں بدامنی کا پاکستان کو براہِ راست نقصان ہوگا: تجزیہ کار


(فائل)

خیال ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے دورہ پاکستان میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ملک کی فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں ’’اس بات پر زور دیں گے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو ختم کرے‘‘

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن منگل کے دِن ایک روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ، اطاعات کے مطابق، اس بات پر زور دیں گے کہ پاکستان کی زمین سے افغانستان کو ہدف بنانے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دوسری جانب، توقع ہے کہ پاکستانی قیادت بھی ٹلرسن پر زور دے گی کہ امریکہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات ضرورت سے زیادہ نہ بڑھائے۔

پاکستان جوہری طاقت کا حامل ملک ہے اور یہ سرد جنگ کے دوران امریکہ کا قریبی اتحادی رہا ہے۔ اس کے علاوہ 11 ستمبر، 2001 کے دہشتگرد حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی اقدامات کے حوالے سے بھی پاکستان نے ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم، حالیہ برسوں میں امریکہ کا بھارت کی طرف بڑھتا ہوا جھکاؤ پاکستان کیلئے باعث تشویش معاملہ بنا ہوا ہے۔

پاکستان اپنے سے کئی گنا بڑے ہمسایہ ملک کو اپنے وجود کیلئے حقیقی خطرہ سمجھتا ہے، اور دونوں ملکوں کے درمیان 1947 میں آزادی حاصل ہونے کے بعد سے تین جنگیں ہو چکی ہیں۔

خیال ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے دورہ پاکستان میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ملک کی فوجی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیں گے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کو ختم کرے۔ تاہم، توقع ہے کہ اُنہیں پاکستانی حکام خبردار کریں گے کہ بھارت کو افغانستان میں کوئی بڑا کردار دینے سے علاقہ عدم استحکام کا شکار ہوگا اور اس سے افغانستان میں 16 برس سے جاری تاریخ کے سب سے طویل فوجی تنازعے کے حل میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے ایک قریبی ساتھی اور وزیر مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ’’بھارت کو افغانستان میں لانا آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہوگا‘‘۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’ایسا کرنا ریڈ لائن عبور کرنا ہوگا، کیونکہ افغانستان میں بھارت کا کوئی کردار نہیں ہے‘‘۔

بہت سے پاکستانی سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے حوالے سے بھارت کو شامل کرکے امریکہ پاکستان کے ساتھ انصاف نہیں برت رہا ہے۔ تاہم، اس طرح کی برہمی دونوں جانب پائی جاتی ہے۔

امریکہ پاکستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ 2001 کے بعد سے مسلسل ’ڈبل گیم‘ کھیل رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان امریکہ کیلئے حمایت کا اظہار کرتا ہے تو دوسری جانب ایسے دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی جاری رہتی ہے جو افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجوں پر حملوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

پاکستان نے 1990 کی دہائی کے دوران افغان طالبان کی حمایت کی تھی اور کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت اور آئی ایس آئی نے 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد بھی طالبان کے ساتھ روابط برقرار رکھے تھے۔ تاہم، پاکستان افغان طالبان اور دوسری عسکری تنظیموں کو اپنی سرزمین پر محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کے الزام سے انکار کرتا آیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن نے پیر کے روز افغانستان کے دورے کے دوران کابل میں کہا تھا کہ امریکہ نے پاکستان سے کچھ ایسی خاص درخواستیں کی ہیں جن میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ طالبان اور دوسری عسکریت پسند تنظیموں کو پاکستان میں ملنے والی حمایت ختم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔

اس سے پہلے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے بھی اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ امریکہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے ساتھ مزید ایک بار کام کرنے کی کوشش کرے گا اور یہ کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان کے خلاف مزید سخت اقدامات اختیار کئے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنے پیش رو سے کہیں زیادہ سخت مؤقف اپنائیں گے۔

امریکہ نے پاکستان کیلئے فوجی امداد میں کٹوتیوں کے ساتھ ساتھ بتدریج فوجی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں نرمی کے اشارے بھی ملے ہیں۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس اور وزیر خارجہ ٹلرسن نے پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو فون کرکے امریکی اور کنیڈئن جوڑے اور اُن کے تین بچوں کو طالبان کے اتحادی حقانی گروپ کے چنگل سے چھڑانے پر پاکستانی فوج کی تعریف کرتے ہوئے، شکریہ ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ، جماعت الاحرار گروپ کے لیڈر کو امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کرنے کی کارروائی سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے تھے۔ پاکستان اسے کافی عرصے سے پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔

دوسری جانب بھارت نے حالیہ برسوں میں افغانستان کی اقتصادی امداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ اسلحہ فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے باعث پاکستان میں یہ تشویش پیدا ہوگئی تھی کہ اسے دونوں جانب سے دشمنی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اب بھی 35 لاکھ افغان مہاجرین کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان میں بدامنی بڑھنے کا براہ راست نقصان پاکستان کو ہوگا۔ اس تناظر میں، پاکستان امریکہ اور افغانستان کے ساتھ زیادہ تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر زور دیتا ہے۔

تاہم، بھارتی وزیر اعظم نرندر مودی کے حامی تھنک ٹینک، ’ویویکاناڈا انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ کے فارن پالیسی کے مشیر، سوشانت سرین کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان چاہے یا نہ چاہے، افغانستان میں بھارت کا کردار بڑھتا جائے گا‘‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ پیغام بہت واضح ہے کہ افغانستان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ پالیسیوں کے پس منظر میں بھارت کا کردار بہت اہم ہوگا‘‘۔

اس پس منظر میں، تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن کے منگل کے روز اسلام آباد میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے نتیجے میں پاکستان امریکہ تعلقات مثبت یا منفی انداز میں ایک نیا رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG