رسائی کے لنکس

logo-print

آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے جج 'کسی سے کم عاشقِ رسول نہیں': چیف جسٹس


فائل

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’’ریاست اپنی ذمہ داری کو دیکھے۔ انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں ہے۔‘‘

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ’’آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے ججز کسی سے کم عاشق رسول نہیں؛ اور ناموس رسالت پر ہم شہید ہونے کے لیے بھی تیار ہیں‘‘۔

یہ بات چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی اسلام آباد تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کی۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی نئے آئی جی اسلام آباد کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’’ریاست اپنی ذمہ داری کو دیکھے۔ انصاف کرنا صرف عدالتوں کا کام نہیں ہے۔ رسول اکرم کی توہین کسی کے لیے قابل برداشت نہیں جب کہ آسیہ بی بی کے کیس میں ناموس رسالت کا کیس نہ بنتا ہو تو سزا کیسے دیں۔ لوگوں کو ہمارا فیصلہ پڑھنا چاہیے‘‘۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی کا فیصلہ دینے والے جج کسی سے کم عاشق رسول نہیں اور کئی جج بینچ میں بیٹھے درود شریف پڑھتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’حضرت محمد مصطفیٰ کے بغیر مسلمانوں کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوسکتی اور ناموس رسالت پر ہم شہید ہونے کے لیے بھی تیار ہیں‘‘۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نےگذشتہ روز آسیہ بی بی سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے۔ 33 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ تینوں ججوں کا متفقہ فیصلہ ہے۔ البتہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے24 صفحات کا اضافی نوٹ بھی لکھا ہے جو فیصلہ کے ساتھ موجود ہے۔

تفصیلی فیصلے کے50 نکات میں اس کیس کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گواہان کے بیانات اور مختلف واقعات کو بتانے کے حوالے سے تضادات موجود تھے جس کے باعث گواہی اور تمام واقعہ مشکوک ہوجاتا ہے۔

فیصلے کے آغاز میں کلمہٴ شہادت تحریر کیا گیا ہے جس کا ترجمہ بھی ساتھ تحریر ہے، جس میں کیا گیا ہے کہ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہ ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اللہ کے آخری نبی ہیں‘‘۔

فیصلے میں مختلف قرآنی آیات اور احادیث کے حوالے دیے گئے ہیں جن میں پیغمبر اسلام سے محبت کا اظہار کیا گیا ہے۔ فیصلے کے پہلے 11 صفحات پر صرف یہ آیات اور احادیث اور ان کے ترجمے تحریر ہیں۔

عدالتی فیصلے کے صفحہ14 پر مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے مشال خان کا ریفرنس بھی دیا گیا ہے؛ اور کہا گیا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کی ایک حالیہ مثال مشال خان کا قتل ہے جسے یونیورسٹی احاطے میں ایک مشتعل ہجوم نے صرف اس الزام پر قتل کر دیا کہ اس نے کوئی توہین آمیز مواد آن لائن پوسٹ کیا ہے۔

فیصلے میں آسیہ بی بی کا مکمل بیان بھی شامل ہے جبکہ بتایا گیا ہے کہ گواہان کی فہرست میں شامل یاسمین بی بی گواہی کے لیے نہیں آئی۔14 جون کو ہونے والے واقعہ کی اطلاع شکایت گزار مولوی سلام کو معافیہ بی بی اور اسما بی بی نے 16 جون کو دی اور 19 جون کو مقدمہ درج کروایا گیا۔

فیصلے میں گواہان کے بدلتے ہوئے بیانات کے حوالے سے بھی تفصیلی بتایا گیا ہے کہ گواہان میں سے چند نے پنچایت کا مقام مختلف بتایا اور اس میں شریک افراد کی تعداد کے حوالے سے بھی ان کے بیانات میں تضاد تھا۔

چیف جسٹس کے تحریر کردہ فیصلے کے 49نکتے میں انہوں نے ایک حدیث لکھی جس میں کہا گیا ہے کہ ’’جان لو۔ جو کوئی بھی کسی غیر مسلم یا اقلیت پر ظلم کرے گا، سختی سے پیش آئے گا، ان کے حقوق سلب کرے گا، اور ان کو ان کی برداشت سے زیادہ ایذا دے گا اور ان کی مرضی کے برخلاف ان سے کچھ چھینے گا، میں اس کے بارے میں روز قیامت شکایت کروں گا۔‘‘

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG