رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ میں آسیہ بی بی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ


فائل، 20 نومبر 2010, آسیہ بی بی اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی موجودگی میں سزا کے خلاف اپیل کے کاغذوں پر دستخط کرتے ہوئے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین رسالت کیس میں سزائے موت کے خلاف آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا۔

چیف جسٹس نے میڈیا کو کیس پر تبصروں سے روکتے ہوئے کہا کہ عدالت نے صرف شواہد کو دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں بھی فیصلے کیلیے شواہد کو بنیاد قرار دیا گیا ہے، مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے بہت کچھ کیا جا رہا ہے، عدالت نے صرف کیس کے شواہد کا جائزہ لینا ہے۔

پراسیکیوٹر کی جانب سے آسیہ بی بی کی اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا گیا کہ چشم دید گواہان کے بیانات میں تضاد نہیں۔ آسیہ بی بی کے خلاف مدعی کے وکیل نے بھی اپیل پر اعتراض اٹھایا کہ اپیل 11 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔ وکیل نے مزید کہا کہ توہین رسالت کے ملزمان کو عالمی سطح پر پذیرائی ملتی ہے، کوئی مسلمان کسی پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام نہیں لگا سکتا، کئی ملزمان فیصلے سے قبل اہل خانہ سمیت بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں۔

جسٹس آصف سعید نے کہا کہ کیا جیل پٹیشن کو تاخیر کی وجہ سے خارج کر دیں، اپیل خارج ہوئی تو ملزم پھانسی چڑھ جاتا ہے۔

آسیہ بی بی کے وکیل نے کہا کہ ملزمہ کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت دی ہے، واقعہ کے پانچ دن بعد مقدمہ درج کیا گیا، گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے، شکوک و شبہات پر دی گی سزا کالعدم قرار دی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی آر میں کہا گیا آسیہ بی بی عیسائی مذہب کی مبلغہ ہے، کیا ریکارڈ سے آسیہ بی بی کا مبلغہ ہونا ثابت ہوا۔ آسیہ بی بی کے وکیل نے کہا کہ آسیہ بی بی کے مبلغہ ہونے کا کوئی شواہد نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ایف آئی آر میں شکایت کنندگان واقعہ میں خود گواہ نہیں، امام مسجد کے بیانات میں تضاد بھی ریکارڈ پر ہے، امام مسجد حلف اٹھا کر مکمل سچ نہ بولے تو اچھی بات نہیں، ایف آئی آر میں کسی عوامی اجتماع کا ذکر نہیں کیا گیا،

انہوں نے کہا کہ پانچ مرلے کے گھر میں عوامی اجتماع کیسے ہو سکتا ہے، کیا پانچ مرلے کے مکان میں دو ہزار لوگ آسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آسیہ بی بی کو اکیلے پنچایت کیوں لایا گیا، پنچایت کہاں ہوئی کچھ واضح نہیں، کوئی گواہ کہتا ہے آسیہ بی بی پیدل آئی تو کوئی کہتا ہے موٹر سائیکل پر لایا گیا،

چیف جسٹس نے کہا کہ ایس پی ننکانہ صاحب کی تفتیش میں آسیہ بی بی قصوروار نکلی، عدالت تفتیشی رپورٹ کو مجموعی طور پر دیکھے گی۔

جسٹس آصف سعید نے کہا کہ ایس پی نے تفتیش کے بجائے صرف فریقین کے بیانات لیے، سیکشن 295 سی کے تحت مقدمہ کی تفتیش ایس پی لیول کا افسر ہی کر سکتا ہے۔

سال 2009 میں ننکانہ صاحب کے علاقہ میں کھیتوں میں کام کے دوران خواتین کی لڑائی ہوئی جس میں آسیہ بی بی پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا اور مقامی امام مسجد کے کہنے پر مقدمہ درج کیا گیا، ٹرائل کورٹ نے آسیہ بی بی کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جسے ہائیکورٹ نے برقرار رکھا تھا اور اب یہ معاملہ کئی سال کے بعد سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے جہاں سماعت مکمل ہونے پر اب فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG