رسائی کے لنکس

logo-print

زرعی پیداوار میں ویت نام ایک مثالی ملک ہے: عالمی ادارہ خوراک


عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت نے دنیا بھر کے ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ غذائی قلت پر قابوپانے اور اپنی زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے ویت نام کو اپنے لیے ایک مثال بنائیں۔ عالمی ادارے نے خبردار کیاہے کہ غذائی قلت سیاسی بے چینی اور عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

عالمی ادارہ خوراک و زراعت کے سربراہ ہوزے گرازیانو دی سلوا نے بھوک کے خلاف جنگ اور شدید غذائی قلت سے متاثرہ علاقوں کو خوراک کی فراہمی سے متعلق ویت نام کی زرعی پالیسوں کوسراہاہے۔

ان کا کہناہے کہ دنیا میں ایسے چند ہی ممالک ہیں جو اپنی برآمدت بڑھانے کے ساتھ ساتھ مقامی طورپر خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کررہے ہیں اور یہ چیز سیاسی استحکام اور امن کے لیے انتہائی اہم ہے۔

بھوک اور غذائی قلت کا سامنا کرنے والے دنیا کے کل افراد کا تقریباً 60 فی صدایشیا اور بحرالکائل کے خطے میں رہتا ہے۔

ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں خوراک اور زرعی پیداوار سے متعلق ہونے والی علاقائی کانفرنس میں مندوبین کی توجہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر زرعی پیداوار کے دیر پا اضافے پر مرکوز ہے۔

ایشیا میں اس وقت چاول کی قیمتیں گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 10 سے 30 فی صد تک زیادہ ہیں اور عالمی ادارے کے سربراہ نے حکومتوں کو خبردار کیا کہ یہ صورت حال بدامنی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

ویت نام، جس کا شمار 30 سال قبل غذائی قلت کے شکار ملک کے طورپر ہوتا تھا، اب تھائی لینڈ کے بعد دنیا میں چاول برآمد کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن چکاہے۔

گذشتہ سال ویت نام نے 72 لاکھ ٹن چاول برآمد کیاتھا۔

عالمی ادارہ خورا کا اندازہ ہے کہ موجودہ وقت سے 2050ء تک خوراک کی پیداوار میں اضافے کا 91 فی صد حصہ فی ایکڑپیدوار بڑھاکر حاصل کیا جائے گا۔ عالمی ادارے سے منسلک ماہرین کا کہناہے کہ وہ پیداوار بڑھانے میں مدد کے لیے شمالی کوریا سمیت دنیا کے متعدد مملکوں کے ساتھ کام کررہاہے۔

خوراک و زراعت کے عالمی ادارے کے تحت ہونے والی ایک ہفتے پر محیط کانفرنس کا اختتام جمعے کو ہورہاہے۔

XS
SM
MD
LG