رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی کی طرف سے اپنے رہنما کے استقبال کی بھرپور تیاری کی گئی تھی اور بڑی تعداد میں اُن کی جماعت کے کارکن کراچی کے ہوائی اڈے کے پرانے ٹرمینل کی جانب جانے والی شاہراہ پر جمع تھے۔جہاں قائم ایک بلٹ پروف اسٹیج سے آصف علی زرداری نے کارکنوں سے مختصر خطاب کیا۔

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری 18 ماہ تک ملک سے باہر رہنے کے بعد جمعہ کو کراچی پہنچے۔

پیپلز پارٹی کی طرف سے اپنے راہنما کے استقبال کی بھرپور تیاری کی گئی تھی اور بڑی تعداد میں اُن کی جماعت کے کارکن کراچی کے ہوائی اڈے کے پرانے ٹرمینل کی جانب جانے والی شاہراہ پر جمع تھے۔جہاں قائم ایک بلٹ پروف اسٹیج سے آصف علی زرداری نے کارکنوں سے مختصر خطاب کیا۔ اُن کے ہمراہ ملک کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے دیگر قائدین بھی شریک تھے۔

آصف زرداری نے کہا کہ وہ پاکستان میں مایوسی نہیں بلکہ ’’اُمید کا پروگرام‘‘ لے کر آئے ہیں۔

’’عوام اور ہماری مسلح افواج کی طاقت سے پاکستان بالکل محفوظ ہے۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں اسلام آباد میں اپنی رہائشگاہ پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے خطاب میں آصف علی زرداری نے فوج کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ ’’آپ کو تو تین سال رہنا ہے، پھر چلے جانا ہے۔ لیکن، ہم نے یہیں رہنا ہے۔ تنگ کرنے کی کوشش کی گئی تو اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔‘‘

اُن کا یہ بیان بظاہر کراچی میں رینجرز کی قیادت میں ہونے والے آپریشن کے تناظر میں دیا گیا تھا کیوں کہ اس آپریشن کے تحت پیپلز پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔

اسلام آباد میں دیئے گئے بیان کے بعد آصف زرداری کے فوجی قیادت سے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے تھے اور کچھ ہی عرصے کے بعد وہ بیرون ملک چلے گئے تھے۔

تاہم پیپلز پارٹی کا یہ موقف رہا کہ سابق صدر کے بیان کی تشریح سیاق و سباق سے ہٹ کر کی گئی اور اُن کے بیرون ملک جانے کا بھی اس بیان سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

آصف علی زرداری نے کراچی پہنچنے پر کہا کہ جب بھی وہ بیرون ملک گئے تو اُن کے بارے میں یہ ہی کہا گیا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے، لیکن اُن کے بقول اُن کا جینا اور مرنا پاکستان میں ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے ایک بیان میں آصف علی زرداری کی واپسی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر اُن کے چار مطالبات نا مانے گئے تو اُن کی جماعت وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف ’لانگ مارچ‘ کی کال دے گی۔

پیپلز پارٹی کے چار مطالبات میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا قیام، پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے پیپلز پارٹی کے تیار کردہ بل کی منظوری، چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق کل جماعتی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کا نفاذ اور ملک کا کل وقتی وزیرخارجہ تعینات کرنا شامل ہیں۔

تاہم آصف زرداری نے کراچی پہنچنے پر حکومت کے خلاف ممکنہ احتجاج سے متعلق کسی لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا۔

معروف سیاسی تجزیہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری خود کو ملک سیاست میں فعال رکھنا چاہتے ہیں اور ’’پیپلز پارٹی کے بعض حلقے بھی سمجھتے ہیں کہ جماعت کو آصف علی زرداری کی ضرورت ہے۔‘‘

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG