رسائی کے لنکس

ترکی کو ’دہشت گردوں کی مدد‘ کرنے کی قیمت چکانا ہو گی: اسد


شام کے صدر بشار الاسد
شام کے صدر بشار الاسد

شام کے صدر نے ترک وزیرِ اعظم پر الزام عائد کیا کہ اُنھوں نے 80 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے انتہاپسندوں کو ترکی سے شام میں داخل ہونے دیا۔

شام کے صدر بشار الاسد نے پڑوسی ملک ترکی کو متنبہ کیا ہے کہ اُسے شام میں اُن کے بقول ’’دہشت گردوں‘‘ کو مدد فراہم کرنے کی ’’بھاری قیمت‘‘ چکانا ہو گی۔

ترکی اور شام کے مابین کسی زمانے میں قریبی تعلقات تھے، مگر اسد حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے سرگرم باغیوں کی انقرہ کی جانب سے بھرپور حمایت کی وجہ سے یہ تعلقات تنزلی کا شکار ہو گئے۔

ترکی کے ہلک ٹی وی پر جمعہ کو نشر ہونے والے انٹرویو میں مسٹر اسد نے ترک وزیرِ اعظم رجب طیب اردگان پر الزام عائد کیا کہ اُنھوں نے 80 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے انتہاپسندوں کو ترکی سے شام میں داخل ہونے دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس اقدام کی وجہ سے ہزاروں شامی باشندے ہلاک ہوئے۔

مسٹر اسد کا یہ بیان ایسے وقت منظر عام پر آیا ہے جب ترکی کی پارلیمان نے اپنے فوجی بوقت ضرورت شام بھیجنے کی اجازت میں توسیع کی ہے۔ اس اقدام کا اعلان گزشتہ برس اُس وقت کیا گیا تھا جب شام کی حدود سے داغے گئے ماٹر گولے کی زد میں آ کر پانچ ترک باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر بشار الاسد کی حکومت منقسم باغی گروہوں سے نبرد آزما ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ انتہاپسند کی بڑھتی ہوئی تعداد ان باغی گروہ کا حصہ بن رہی ہے۔

مزید برآں شام میں موجود بین الاقوامی معائنہ کار کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کی نگرانی کے عمل میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ ان کا شام میں جمعہ کو چوتھا دن ہے۔
XS
SM
MD
LG