امریکہ کے دو خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں دو ماہ کا عرصہ گزارنے کے بعد اتوار کی سہ پہر زمین پر بحفاظت واپس پہنچ گئے ہیں۔ خلابازوں نے یہ سفر پہلی بار ایک پرائیویٹ خلائی راکٹ اسپیس ایکس کے ذریعے کیا تھا اور وہ اسپیس ایکس کے خصوصی کیپسول 'ڈریگن' کے ذریعے خلیج میکسیکو میں اترے۔ امریکی خلابازوں کو لینے کے لیے اسپیس ایکس کا عملہ بھی موجود تھا۔
امریکی خلابازوں کی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے واپسی
5
'ڈریگن' جب سمندر کی سطح سے ٹکرایا تو اس کی رفتار 24 کلو میٹر فی گھنٹہ تک گھٹ چکی تھی۔
6
سمندر میں ان کی مدد کے لیے 40 سے زیادہ افراد پر مشتمل عملہ موجود تھا جن میں ڈاکٹر اور نرسیں بھی شامل تھیں تاکہ وہ خلابازوں کی زمین پر واپسی پر ان کا طبی معائنہ کر سکیں۔
7
خلابازوں کی واپسی پر ان کے استقبال کے لیے ٹیمیں پہلے سے موجود تھیں جنہوں نے خلابازوں کو بحفاظت خلائی کیپسول سے اتار لیا۔
8
اسپیس ایکس کی لانچنگ سے پہلے امریکہ حالیہ برسوں میں اپنے خلاباز، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچانے اور واپس لانے کے لیے روسی راکٹوں پر انحصار کرتا رہا ہے۔