رسائی کے لنکس

فلسطین اور اسرائیل تنازع کیمرے میں قید کرنے والی کم عمر خاتون فوٹوگرافر کے لیے صحافتی ایوارڈ


بمباری سے غزہ کی تباہ شدہ عمارت کے سامنے گزرنے والی خاتون کی یہ تصویر فلسطینی فوٹو جرنلسٹ فاطمہ شبیر نے مئی میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے تنازعے کے دوران لی تھی۔

رواں برس مئی میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کے دوران تصاویر کیمرے کی آنکھ میں قید کرنے والی فلسطینی فوٹوگرافر فاطمہ بشیر صحافتی ایوارڈ اپنے نام کرنے والی کم عمر فوٹو جرنلسٹ بن گئی ہیں۔

وائس آف امریکہ کے لیے ایشا سرائی کی رپورٹ کے مطابق چوبیس سالہ فوٹو جرنلسٹ فاطمہ بشیر کو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کے دوران حیرت انگیز تصاویر لینے پر انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن (آئی ڈبلیو ایم ایف) کی جانب سے فوٹو جرنلزم ایوارڈ 'اینجا نیڈرنگ ہاس کریج' 2021 سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والی وہ کم عمر صحافی ہیں۔

فوٹو جرنلزم کے شعبے کا 'اینجا نیڈرنگ ہاس کریج' ایوارڈ پلٹزر اور صحافتی ایوارڈ یافتہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی فوٹوگرافر اینجا نیڈرنگ ہاس کی زندگی اور کام کے اعزاز میں تخلیق کیا گیا تھا۔

فوٹوگرافر اینجا نیڈرنگ ہاس 2014 میں افغانستان میں ایک اسائنمنٹ کے دوران ماری گئی تھیں۔

فوٹو جرنلسٹ فاطمہ بشیر کی تصاویر مئی 2021 کے فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے پر مرکوز ہیں۔ اس 11 روزہ جنگ میں بچوں سمیت 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والی فاطمہ شبیر کا کہنا ہے کہ "جیسے ہی بم باری شروع ہوتی تھی، میں اپنا کیمرا اٹھا کر اپنے کام پر نکل جایا کرتی تھی۔"

صحافتی ایوارڈ اپنے نام کرنے والی فاطمہ شبیر 24 برس کی عمر میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم عمر صحافی ہیں۔
صحافتی ایوارڈ اپنے نام کرنے والی فاطمہ شبیر 24 برس کی عمر میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم عمر صحافی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ شبیر کا کہنا تھا کہ بطور فوٹو صحافی یہ ان کا کام ہے کہ وہ باریک بینی کے ساتھ ہر اس چیز پر توجہ مرکوز رکھیں جو شہر سے باہر رہنے والے عام افراد کے نظروں سے اوجھل ہے۔

فاطمہ شبیر نے 'اسرائیل فلسطین تنازعے کے 11 دن' کے تصاویری مضمون میں ہر اس چیز کو دکھایا ہے جو انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

ان کا کہنا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے تنازعے کے دوران ہونے والی تمام تر چیزوں کو دکھانا بے حد ضروری تھا۔ یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ یہ تمام تر چیزیں کتنی خطرناک تھیں۔

فاطمہ شبیر نے بتایا کہ انہوں نے 11 روز کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ دیا تھا اور وہ براہِ راست خود فیلڈ میں گئیں۔ ان کے بقول وہ ان دنوں گلیوں میں قیام پذیر تھیں اور وہاں ہونے والی ہر چیز پر نظر رکھتی تھیں۔

فاطمہ شبیر کا مشکل حالات میں کام کرنا آئی ڈبلیو ایم ایف کے ججز کی توجہ مبذول کرنے میں کامیاب ہوا۔

آئی ڈبلیو ایم ایف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلائسا لیز مونیوز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ججنگ کمیٹی کے ارکان فاطمہ کی تصاویر سے بے حد متاثر ہوئے کہ کیسے انہوں نے بمباری اور جنگ کے مشکل حالات کو خوب صورتی سے کیمرے کی آنکھ میں قید کیا حالانکہ وہ خود بھی ان مشکلات حالات سے گزر رہی ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ فاطمہ بشیر خود اس تنازعے کا حصہ تھیں اور ایک شہری اور فوٹو جرنلسٹ ہونے کی حیثیت سے زندہ رہنے کی کوشش کر رہی تھیں، جو بہت ہی اچھی کوشش تھی۔

یاد رہے کہ آئی ڈبلیو ایم ایف کا سالانہ ایوارڈ ایسی تصاویر کو تسلیم کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں دنیا کو بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔ ایوارڈ حاصل کرنے والے شخص کو 20 ہزار ڈالر کی انعامی رقم سے بھی نوازا جاتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG