رسائی کے لنکس

logo-print

قبائلی علاقوں کی 10 فیصد خواتین کا ووٹ دینا لازمی


قبائلی خواتین بچوں کو پڑھا رہی ہیں۔ فائل فوٹو

جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں وفاق کے زیرانتظام سابق قبائلی علاقوں میں خواتین کوانتخابی عمل میں شریک کرنا نہ صرف حکومتی اداروں بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کیلئے بھی ایک مشکل اور کٹھن مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ا عدادوشمارکے مطابق وفاق کے سابق قبائلی علاقوں میں، جواب خیبر پختونخوا کاحصہ بن چکے ہیں، رائے دہندگان کی تعداد 25 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں سے 10 لاکھ سے زائد خواتین رائے دہندگان ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق 2013 کی نسبت قبائلی علاقوںمیں درج کئے جانے والے رائے دہندگان میں17 فیصد اضافہ ہوا ہے جو ملک کے دیگر چاروں صوبوں سے کہیں زیادہ ہے۔ بشمول سابق قبائل خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر رائے دہندگان کی تعداد ایک کروڑ 75 لاکھ ہے جن میں 75 لاکھ سے زیادہ خواتین بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کے مطابق سابق قبائلی علاقوں کے ضلعی انتظامی عہدیدار 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر سہیل احمد خان نے وانا میں احمد زئی وزیر قبائل کے جرگے میں قومی اسمبلی میں حصہ لینے والی مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے ساتھ مفصل بات چیت کی ا ور انہیں الیکشن کمیشن کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق خواتین کے 10 فیصد ووٹ لازمی طور پر پول کرنے سے آگاہ کیا۔ بصورت دیگر انتخابی عمل منسوخ تصور ہو گا۔ جنوبی وزیرستان کے علاوہ دیگر سابق قبائلی علاقوں میں بھی ضلعی انتظامی عہدیداروں نے انتخابات میں حصہ لینے والے اُمیدواروں کوخواتین کے 10 فیصد ووٹ پول کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

تاہم دوسری طرف خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرم غیرسرکاری تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ کارکن بالخصوص خواتین رضاکار انتخابی اور سیاسی عمل میں قبائلی خواتین کی شرکت کیلئے کوشاںہیں ۔ تکڑہ قبائلی خویندے (Brave Tribal Sister)نامی تنظیم سے منسلک ناہید آفریدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی تنظیم پہلے ہی سے خواتین میں آگاہی کیلئے کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلے میں روزانہ قبائلی علاقوں کے مختلف گاؤں اور دیہات میں گھر گھر جا کر مہم چلا رہی ہے۔ ایک دن قبل انہوں نے ازخود خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود کے گاؤں غونڈی میں سینکڑوں خواتین کو انتخابی عمل میں حصہ لینے پر راضی کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین بھی ان کو درپیش صحت، تعلیم، پانی اور بجلی کے مسائل کے حل کیلئے موزوں امیدواروں کو منتخب کرانے کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے انتخابی عمل میں دلچسپی لینے کا اندازہ اس بار ووٹروں کے زیادہ سے زیادہ اندراج سے لگوایا جا سکتا ہے۔

ایک اور تنظیم قبائلی خور(Tribal Sisters) کی عہدیدار نوشین جمال اور کرن نے کہا کہ اب ملک کے دیگر علاقوں کی طرح سابق قبائلی علاقوں میں سیاسی شعور میں پختگی دیکھی جا رہی ہے۔ ماضی کی نسبت ایک طرف اگر خواتین رائے دہندگان کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف خواتین نے کافی تعداد میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز بھی حاصل کئے ہیں۔ تاہم نوشین جمال اور کرن نے کہا کہ مرد ممبران کی طرح خواتین بھی اسی جماعت یا آزاد امیدوار کو ووٹ دیں گی جس کے ساتھ خاندان کی وابستگی ہو۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ماضی کی نسبت انتخابات میں خواتین کے ووٹوں کی شرح اطمینان بخش ہو گی۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بھی انتخابی عمل میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کیلئے راضی کرنے کے بارے میں قبائلی خواتین کی تنظیم کی ذکیہ وزیر کی سربراہی میں ایک مہم زور و شور سے جاری ہے۔

ماضی میں کرم ایجنسی کے پاڑہ چنار اور باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ناواگئی کے بعض پولنگ سٹیشنوں پر خواتین نے انتخابات کے دوران حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا جبکہ 2013 کے عام انتخابات میں خیبر ایجنسی کے بعض پولنگ سٹیشنوں پر خواتین نے ووٹ ڈالے تھے۔

25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں افغانستان سے ملحقہ کرم ایجنسی سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سابق بیوروکریٹ خاتون علی بیگم بھی آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG