رسائی کے لنکس

روس: یونیورسٹی میں طالبِ علم کی فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک، متعدد زخمی


حملے کے بعد پرم یونیورسٹی میں لوگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کھڑی کی گئی رکاوٹوں کے پاس موجود ہیں۔

روس کے شہر پرم کی ایک یونیورسٹی میں ایک مسلح طالبِ علم کی فائرنگ سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق روس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ جب کہ مقامی نیوز ویب سائٹس پر پر دکھائے جانے والے پرم اسٹیٹ یونیورسٹی کے مناظر میں گھبراہٹ کا شکار طلبہ کو جان بچانے کے لیے عمارت کی پہلی منزل کی کھڑکیوں سے چھلانگ لگاتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

یہ واقعہ روس کے دارلحکومت ماسکو سے 1300 کلو میٹر مشرق میں واقع شہر پرم کی یونیورسٹی میں پیش آیا ہے۔

روسی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی کے طلبہ نے حملہ آوروں کو روکنے کے لیے اپنی کلاس رومز کے دروازوں کو کرسیوں کی مدد سے مضبوطی کے ساتھ بند رکھنے کی بھی کوشش کی تھی۔

روسی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایک فوٹیج میں حملہ آور کو کھلے میدان میں زمین پر پیٹ کے بل لیٹے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

مسلح شخص کی فائرنگ کے بعد حکام یونیورسٹی کی عمارت کو خالی کرا رہے ہیں۔
مسلح شخص کی فائرنگ کے بعد حکام یونیورسٹی کی عمارت کو خالی کرا رہے ہیں۔

یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ حملے کے وقت ان کی کلاس میں 60 طلبہ موجود تھے اور انہوں نے کرسیاں کھڑی کر کے کمرے کے دروازے کو بند کر دیا تھا۔

خبررساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق یونیورسٹی میں 12 ہزار طلبہ پڑھتے ہیں اور حملے کے وقت کیمپس میں تین ہزار طلبہ موجود تھے۔

حملہ آور کون تھا؟

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور یونیورسٹی کا طالبِ علم ہے۔ اس نے رواں برس مئی میں شکار کے لیے استعمال ہونے والی رائفل حاصل کی تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور کی عمر 18 برس ہے اور اس نے یونیورسٹی میں فائرنگ سے قبل سوشل میڈیا پر رائفل، ہیلمٹ اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی تھی۔ لیکن اس تصویر کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

حملہ آور سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ میں بہت عرصے سے اس بارے میں سوچ رہا تھا، اس بات کو برسوں بیت گئے اور مجھے احساس ہوا کہ میں نے جو خواب دیکھا تھا اسے پورا کرنے کے وقت آ پہنچا ہے۔ یہ پوسٹ بعدازاں سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئی تھی۔

مبینہ طور پر حملہ آور نے اپنے اس اقدام کو سیاست یا مذہب سے نہیں جوڑا ہے بلکہ ذاتی منافرت کو اس اقدام کا محرک بتایا جاتا ہے۔

روسی ایوان صدر کریملن سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر مسلح شخص کی دماغی حالت درست نہیں۔ لیکن اس بیان میں واقعے کو پولیس سے متعلقہ قرار دیتے ہوئے اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے۔
پولیس جائے وقوعہ پر موجود ہے۔

روس میں آتشیں اسلحہ رکھنے سے متعلق کئی کڑی پابندیاں عائد ہیں لیکن شکار کے لیے بندوقیں، ذاتی تحفظ یا کھیل کے مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی بعض اقسام رکھنے کی اجازت ہے۔ یہ اسلحہ رکھنے کے لیے بھی دیگر شرائط کے ساتھ ایک ٹیسٹ بھی پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔

ماضی میں پیش آنے والے واقعات

یونیورسٹی میں ہونے والا یہ حملہ اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

اس سے قبل رواں برس کے آغاز میں ایک مسلح نوجوان نے ایک شہر کازان کے اسکول میں نو افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعے میں متعدد افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔

اس سے قبل روس کے زیر تسلط کرائمیا کے ایک کالج میں مسلح طالب علم نے 20 افراد کو ہلاک کرکے اپنے آپ کو گولی مارلی تھی۔

روس میں کازان شہر میں ہونے والے واقعے کے بعد آتشیں اسلحے کی خریداری کے لیے کم سے کم عمر 18 بڑھا کر 21 برس کردی گئی تھی۔ التبہ ابھی تک یہ قانون نافذ نہیں کیا گیا ہے۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG