رسائی کے لنکس

logo-print

محمود عباس نے ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ کا امن منصوبہ مسترد کر دیا


فلسطینی رہنما نے کہا کہ اب مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکہ اکیلا ثالث نہیں بن سکتا۔ بین الاقوامی کانفرنس طلب کی جائے جس میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ شریک ہوں۔

فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ امن سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ تجویز تسلیم نہ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھلا رہے گا۔

امریکی تجویز کے بارے میں محمود عباس نے کہا کہ یہ تجویز یا اس تجویز کا کوئی حصہ بین الاقوامی مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتا۔

سلامتی کونسل مندوبین کی بڑی تعداد کی موجودگی میں 35 منٹ کی جذباتی تقریر کے دوران عباس نے مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے تجویز کی گئی سر زمین پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے نقشہ ہاتھ میں تھام رکھا تھا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ سوٹز چیز کی شکل کا سا ایک نقشہ ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ آپ میں سے کون ہوگا جو ایسی صورت حال میں اس طرح کی ریاست قبول کرے گا؟

محمود عباس نے کہا کہ اس منصوبے کے نتیجے میں خطے میں امن اور استحکام نہیں آئے گا۔ اس لیے اس منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم اس پر عمل درآمد کا مقابلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل فلسطین تنازع حل کرنے کے لیے اپنے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیلی رہنماؤں نے اس کا خیرمقدم کیا تھا جب کہ فلسطینی رہنماؤں نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے تحت یروشلم اسرائیل جب کہ ابو دس فلسطین کا دارالحکومت ہو گا۔ دونوں کے درمیان کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو سرحد کا درجہ حاصل ہو گا۔

منصوبے میں تجویز کردہ 50 ارب ڈالرز کی معاشی پیش کش کے حوالے سے محمود عباس نے کہا کہ معاشی حل سے پہلے لازم ہے کہ سیاسی حل تلاش کیا جائے۔

فلسطینی رہنما نے کہا کہ اب مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکہ اکیلا ثالث نہیں بن سکتا۔

انہوں نے بین الاقوامی کانفرنس طلب کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ شامل ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG