رسائی کے لنکس

logo-print

برکینا فاسو: ہوٹل سے تمام مغوی بازیاب، کارروائی مکمل


ہفتہ کو علی الصبح سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں سے ہوٹل کا قبضہ چھڑوانے کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کیا اور اس دوران دھماکوں اور فائرنگ سے پورا علاقہ گونجتا رہا۔

مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو میں سکیورٹی فورسز اور فرانسیسی فوجیوں نے دارالحکومت اواگاڈوگو میں ایک پرتعیش ہوٹل کو شدت پسندوں سے وا گزار کرواتے ہوئے یہاں یرغمال بنائے گئے 126 افراد کو رہا جب کہ تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

جمعہ کو دیر گئے شدت پسندوں نے سپلینڈڈ ہوٹل اور اس سے ملحقہ کیفے پر حملہ کیا تھا۔

ہفتہ کو علی الصبح سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں سے ہوٹل کا قبضہ چھڑوانے کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کیا اور اس دوران دھماکوں اور فائرنگ سے پورا علاقہ گونجتا رہا۔

سکیورٹی اور داخلی امور کے وزیر سائمن کومپاؤر کا کہنا ہے کہ فورسز قرب و جوار میں تلاش کی کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ یہاں ممکنہ طور پر چھپے ہوئے کسی عسکریت پسند کا پتا چلایا جا سکے۔

حکام کے بقول حملے میں کم ازکم 33 افراد زخمی ہوئے جبکہ دس لاشیں بھی برآمد کی جا چکی ہیں۔

سپلینڈڈ ہوٹل میں اکثر غیر ملکی شہری قیام کرتے ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ حملے کے وقت غیر ملکیوں کی تعداد یہاں خاصی کم تھی۔

القاعدہ سے جڑی شدت پسند تنظیم ’اے کیو آئی ایم‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

امریکہ کے دفاعی عہدیداروں اور وسطی افریقہ میں امریکی ملٹری کمانڈ مرکز کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اواگاڈوگو میں سفارت خانہ امریکی شہریوں کے بارے میں معلومات کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہوٹل میں مسلح حملہ آوروں کے داخلے سے قبل جمعہ کی شام تقریباً سات بجے دو کار بم دھماکے ہوئے، جس کے بعد تین سے چار مسلح افراد ہوٹل کی عمارت میں داخل ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق ہوٹل میں اقوام متحدہ کے عملے کے علاوہ کئی غیر ملکی شہری بھی وہاں موجود تھے۔

ہوٹل کے قریب ہی ایک کیفے میں بھی مسلح حملہ آوروں نے گھس کر ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔

برکینا فاسو کے پڑوسی ملک مالی میں گزشتہ سال نومبر میں شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے ایک ایسا ہی حملہ کر کے 20 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

XS
SM
MD
LG