رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: وکلا پر ایک ماہ سے بھی کم وقت میں دوسرا مہلک حملہ


سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ’’ہمیں اجتماعی طور پر قتل کیا جا رہا ہے، یہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔‘‘

پاکستان میں ایک ماہ سے بھی کم وقت میں جمعہ کو وکلا برادری پر دوسرا مہلک حملہ کیا گیا، جس پر وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے لوگوں کے حقوق کا عدلیہ میں دفاع کرنے والے گروپ کی سلامتی کے انتظامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی ایک موقر بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مردان اور پشاور میں دہشت گردی کے واقعات پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان وکلا اور مسیحی برداری کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

تنظیم کے ایک بیان میں کہا گیا کہ جمعہ کو پاکستان کے شمال مغرب میں ہونے والے دہشت گرد حملے اس امر کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ ایسی برادریوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ انسانی جانوں اور اُن کے حقوق کا تحفظ جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے وہیں لوگوں پر حملہ کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔

مردان میں ضلع کچہری پر خودکش حملے سے قبل پشاور میں مسیحی برداری کی ایک بستی میں خودکش حملہ آور داخل ہو گئے تھے، جنہیں سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کر دیا اور اس حملے میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے وکلاء پر حملے کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گرد ایسے گروپ کو نشانہ بنا رہے ہیں جو لوگوں کے حقوق کا دفاع عدالتوں میں کرتا ہے۔

مردان میں ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک ماہ سے بھی کم وقت میں پاکستان میں وکلا برادری پر دوسرا حملہ تھا۔

جب کہ اگر مسیحی برداری کا ذکر کیا جائے تو رواں سال مارچ میں لاہور میں ایسٹر کا تہوار منانے والے مسیحی برداری کے افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں درجنوں ہلاکتیں ہوئیں۔

آٹھ اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے میں 73 افراد مارے گئے تھے جن میں لگ بھگ 55 وکیل شامل تھے، حکام کے مطابق جمعہ کو مردان میں ضلع کچہری پر حملے کا ہدف سے بھی وکیل ہی تھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور وکلاء کے ایک رہنما کامران مرتضیٰ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حالیہ دہشت گرد حملے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ وکلا کو بطور خاص نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

’’ہمیں اجتماعی طور پر قتل کیا جا رہا ہے، یہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے۔‘‘

وکلا تنظیموں کی طرف سے پہلے ہی یہ کہا جا چکا ہے کہ کوئٹہ حملے کے خلاف رواں ماہ ملک گیر احتجاج کیا جائے گا، جب کہ دو روز قبل ہی پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کوئٹہ میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس بارے میں جواب اور رپورٹ طلب کی تھی۔

وکلا تنظیموں کی طرف سے کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں اگرچہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کے سبب امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے لیکن دہشت گردی کے واقعات پر پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

مردان میں خودکش حملے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے ایک بیان میں اپنی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو ملک میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ آسان اہداف کو نشانہ بنانے سے دہشت گرد عناصر کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہو رہا ہے اور وزیراعظم کے بقول اس طرح کے بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔

XS
SM
MD
LG