رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرانسپورٹ سسٹم کو دہشت گردوں سے بچانے کے اقدامات


روس میں دہشت گردی کے واقعات کے بعدجہاں سیکیورٹی کے عالمی ماہرین اس قسم کی دہشت گردی کو روکنا مشکل قرار دے رہے ہیں وہاں امریکہ اور برطانیہ میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو کسی ممکنہ دہشت گردی سے بچانے کے اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ لندن کےزیر زمین ٹرانسپورٹ کے نظام کو سب سے قدیم اور پیچیدہ نظام قرار دیا جاتا ہے جس کے تحفظ کے لئے برطانیہ کے سیکیورٹی ماہرین ایک عرصے سے کام کر رہے ہیں لیکن یہ کوششیں کتنی اطمینان بخش ہیں۔

یہ کام کے لئے گھر سے نکلنے والے کسی بھی فرد کا سب سے ڈراؤنا خواب ہے۔سیکیورٹی کےبعض ماہرین کا کہنا ہے کہ روس جیسی دہشت گردی کا نشانہ بنا ،ویسی دہشت گرد کو روکنا آسان نہیں۔مائیکل او ہیلن واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوشن سے منسلک ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے ایسے واقعات کو مستقل طور پر روکنا ممکن نہیں۔اور اس قسم کی دہشت گردی اب ہماری زندگی کا حصہ رہے گی۔

ماسکو میں دھماکوں کے بعد امریکہ اور یورپی ملکوں میں زیر زمین ٹرین سسٹم نےحفاظتی اقدامات سخت کئے گئے ہیں لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ اضافی اقدامات عارضی ہونگے۔

مائیکل او ہیلن کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں دھماکہ خیز مواد تلاش کرنے والے کم نمائشی اور آسان طریقے ڈھونڈنے ہونگے ،جو مہنگے ہو سکتے ہیں۔ مگر عوامی جگہوں پر دھماکہ خیز مواد ڈھونڈنے والی کے نائن ٹیموں اور خفیہ معلومات پر زیادہ توجہ دینی چاہئے۔

امریکہ میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر مقامی اور مرکزی ایمرجنسی اداروں کے اہلکاروں کو ایسی مشقیں کرائی جاتی ہیں کہ ہنگامی صورتحال کے لئے تیاری کی جائے۔ایف بی آئی کے لنڈسے گڈون کا کہنا ہے کہ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنی ایسی مہارت میں روس اور باقی عالمی اتحادیوں کو بھی شامل کریں۔

ماسکو کی زیر زمین ٹرین میں دھماکہ ہو ،یا پھر 2004ء میں سپین کے شہر میڈرڈ میں ٹرین میں ہونے والی دہشت گردی ،ماہرین کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا مقصد اپنے مقاصد حاصل کرنا ہوتا ہے۔

مائیکل او ہیلن کہتے ہیں کہ آج کی جدید دہشت گردی کا مقصد زیادہ سے زیادہ انتشاراور جانی نقصان پھیلانا ہے۔تاکہ معاشرے اور حکومتیں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔

جولائی 2005ء میں لندن کے تین انڈر گراونڈ ٹرین سٹیشنوں اور ایک بس میں ہونےو الے دھماکوں میں 52 افراد ہلاک ہو ئے تھے جن میں خود کش بمبار بھی شامل تھے۔ دو ہفتے بعد چار مزید افراد ایسی ہی دہشت گردی کی ناکام کوشش کرتے پکڑے گئے۔ لندن کی ایک سیکیورٹی فرم سے منسلک جوناتھن ووڈ کہتے ہیں کہ عوامی ٹرانسپورٹ سسٹم دہشت گردوں کے لئے آسان ہدف ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ایک عوامی اہمیت کی حامل جگہ پر حملہ کرنے کا نفسیاتی اثر زیادہ ہوا ہے ،اور اسے میڈیا کی توجہ بھی زیادہ ملتی ہے۔

حال ہی میں القاعدہ کی جانب سے جاری کی گئی اس وڈیو کے مطابق دہشت گردوں کی توجہ ابھی ٹرانسپورٹ سسٹم پرہی رہے گی۔القاعدہ کے رکن آدم غدن نے کہاتھا کہ میں ذہن میں رکھنا ہوگا کہ بظاہر ناکام حملے بھی جو ٹرانسپورٹ کے نظام پر کئے گئے ،انہوں نے بڑے شہروں کا نظام معطل کر دیا اور دشمن کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

لندن ویسے تو اپنی ڈبل ڈیکر بسوں سے پہچانا جاتا ہے۔لیکن یہاں عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام پر نصب سیکیورٹی کیمروں کی تعداد10 ہزار ہے جن میں سٹیشن پر پڑے لاوارث بیگز کا پتہ چلانے والے سوفٹ وئیر بھی لگ سکتے ہیں مگر دیگر ملکوں کے ماہرین کی طرح یہاں بھی سیکیورٹی ماہرین عام مقامات پر دہشت گرد اورایک مسافر میں فرق کرنا سیکیورٹی کیمروں کے لئے مشکل قرار دیتے ہیں جیسا کہ 2005ء کے لندن بم دھماکوں میں ہوا۔

دہشت گردی امور کے ایک ماہر نائیحل انکسٹر کہتے ہیں کہ کم از کم ایک شخص نے بم دھماکہ ٹرین کے بہت اندر زیرزمین پہنچ کر کیا۔جس کی وجہ سے زخمیوں کو ٹرینوں سے نکالنا اور فورینزک ماہرین کو دھماکے کے مقام پر پہنچانا مشکل ہو گیا تھا۔

لندن کی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ایک مقناطیسی کارڈ کا سسٹم متعارف کرایا ہے جو یہ پتہ لگاتا ہے کہ لوگ کب کہاں گئے تھے لیکن ایسا کسی کی نگرانی کے دوران یا حادثے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

انکسٹر کہتے ہیں کہ میرا نہیں خیال کہ آپ ٹرانسپورٹ کے نظام کو باقی صورتحال سے الگ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ہمیں اس کو انسداد دہشت گردی کے ایک جامع پیکیج کا حصہ ہی سمجھنا ہوگا۔

لندن کے لئے جو 2012ء کے اولمپکس کی میزبانی کرے گا ، سیکیورٹی ایک بڑا خدشہ ہےجبکہ ماہرین بہترین دفاع حملہ آوروں کو حملے سے پہلے پکڑنا قرار دیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG