رسائی کے لنکس

logo-print

آنگ ساں سوچی کا برطانیہ میں گرم جوش خیرمقدم


برما کی حزب اختلاف کی راہنما آنگ ساں سوچی نے کہاہے کہ 24 سال کے عرصے میں اپنے پہلے یورپی دورے کے موقع پر پرجوش خیرمقدم پربرما کے صدر کو کوئی تشویش محسوس نہیں کرنی چاہیے۔

نوبیل انعام یافتہ راہنما نے اس دورے میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک خصوصی اجلاس سے بھی خطاب کیا۔ وہ 1970ء کے عشرے میں برطانیہ کی اس قدیم درس گاہ میں زیر تعلیم رہی تھیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی نے جمہوریت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعزازی ڈگری سے نوازا۔

آنگ ساں سوچی نے اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ہے کہ برطانیہ میں ان کا گرم جوش استقبال یہ ظاہر کرتا ہے کہ برما میں مثبت تبدیلیوں کی دنیا کتنی شدید خواہش رکھتی ہے۔

آنگ ساں سوچی کو 2010ء میں اپنے گھرکی نظر بندی سے رہائی ملی تھی۔

ان کی رہائی کے اگلے سال برما میں ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی جس میں سویلن نمائندوں کی تعداد برائے نام تھی۔

پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں آنگ ساں سوچی کی جماعت کو بھی شرکت کی اجازت ملی جس میں اپنی نشست کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت نے بے مثال کامیابی حاصل کی۔

XS
SM
MD
LG