رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: تارکینِ وطن کی آمد روکنے کے لیے سخت اقدامات


سنہ 2001 سے اب تک کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طورپر آسٹریلیا پہنچنے کی کوششیں کرنے والے لگ بھگ ایک ہزار تارکینِ وطن ہلاک ہوچکے ہیں۔

آسٹریلیا کی حکومت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی آمد کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت غیر قانونی طور پر آسٹریلیا پہنچنے والے تمام تارکینِ وطن کو پاپوا نیو گنی بھیج دیا جائے گا۔

آسٹریلیا کے وزیرِاعظم کیون رڈ نے جمعے کو نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا آنے والے غیر ملکی تارکینِ وطن کے آسٹریلوی سرزمین پر رہنے کا امکان مکمل طور پر ختم کیا جارہا ہے اور اب پناہ کے طلب گار غیر ملکیوں کو آسٹریلوی سرزمین پر رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آسٹریلوی وزیرِاعظم نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت نے جزیرہ نما پڑوسی ملک پاپوا نیو گنی سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت سمندر کے راستے غیر قانونی طور پر آسٹریلیا پہنچنے والے تارکینِ وطن کو پاپوا نیو گنی منتقل کردیا جائے گا جہاں ان کی درخواستوں کی منظوری کی صورت میں وہ مستقل قیام کرسکیں گے۔

کیون رڈ نے بتایا کہ ان کے اس اقدام کا مقصد غیر قانونی تارکینِ وطن کے سیلاب کو روکنا ہے جن کی حالیہ عرصے کے دوران میں آسٹریلیا آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

آسٹریلوی وزیرِاعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس مسئلے پر انڈونیشیا کی حکومت کے ساتھ بھی بات کی ہے جو کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا کا رخ کرنے والے بیشتر تارکینِ وطن کا پہلا پڑائو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے انڈونیشیا کو ایرانی شہریوں کے لیے ویزہ قوانین سخت کرنے اور ایرانیوں کو انڈونیشیا آمد پر ہوائی اڈوں پر ویزے دینے کی پالیسی ختم کرنے کا بھی کہا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انڈونیشیا کے راستے خستہ حال کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے والے تارکینِ وطن کی ایک بڑی تعداد ایرانی شہریوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق 2001ء سے اب تک کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طورپر آسٹریلیا پہنچنے کی کوششیں کرنے والے لگ بھگ ایک ہزار تارکینِ وطن ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 2012ءکے دوران میں آسٹریلیا کو پناہ گزینوں کی 16 ہزار درخواستیں موصول ہوئی تھیں جب کہ رواں برس اب تک 15 ہزار سے زائد تارکینِ وطن کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچ چکے ہیں۔

غیر قانونی تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی آمد کے باعث یہ مسئلہ آسٹریلیا کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے جب کہ امکان ہے کہ تارکینِ وطن کا مسئلہ آئندہ انتخابات پر بھی حاوی رہے گا جس میں حکمران 'لیبر پارٹی' کی شکست کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG