رسائی کے لنکس

پاپوا نیوگنی میں زیرحراست پناہ گزین کی ہلاکت کی تحقیقات


آسٹریلیا میں پناہ گزینوں کا مظاہرہ، فائل فوٹو

آسٹریلیا اس سال انسانی ہمددردی کے مختلف پروگراموں کے تحت لگ بھگ 14 ہزار لوگوں کو پناہ گزینوں کا ویزا جاری کرے گا۔ جب کہ عراق اور شام کے تنازعے سے متاثرہ مزید 12 سو افراد کی از سر نو آباد کاری کی جا چکی ہے۔

پاپوا نیو گنی میں عہدے دار پناہ کے ایک اور متلاشی کی موت کی تحقیقات کریں گے جسے آسٹریلیا کے ساحل کے قریب منڈس آئی لینڈ میں تارکین وطن کے ایک کیمپ سے پکڑا گیا تھا۔ سری لنکا کے اس زیر حراست شخص کے بارے میں خیال ہے کہ اس نے خود کشی کی تھی جس کے بعد اس جزیرے پر گذشتہ چار سال میں ہونے والی اموات کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

سری لنکا کے 32 سالہ تامل شہری کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ کچھ عرصے سے مایوسی کے عالم میں تھا اور ان کا خیال ہے کہ اس نے خود اپنی جان لی ہے ۔ اسے جزیرہ مانس میں آسٹریلیوی فنڈز سے چلنے والے ایک حراستی مرکز سے ایک قریبی عارضی مرکز میں منتقل کیا گیا تھا جہاں اگست میں ایران سے تعلق رکھنے والا پناہ کا ایک متلاشی مردہ پایا گیا تھا۔

جزیرے منڈس میں آسٹریلیا کے زیر اہتمام، جنوبی پیسفک میں ساحل پر واقع تارکین وطن کے دو میں سے ایک مرکز موجود ہے ۔ دوسرا مرکز ایک چھوٹی سی جمہوریہ نیرو میں واقع ہے ۔ ان دور افتادہ کیمپوں میں کینبرا نے پناہ کے ان متلاشیوں کو زیر حراست رکھا ہوا ہے جنہیں اس دوران پکڑا جاتا ہے جب پناہ گزینوں کی حیثیت سے متعلق ان کی درخواستوں کی چھان بین کے دوران کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا پہنچنے کی کوشش کر تے ہیں۔

ان پناہ گزینوں کے دعوے جائز ثابت ہو ں تو بھی آسٹریلیا کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر پہنچنے والوں کو روکنے کے لیے بنائی گئی سرحدی کنٹرول کی ایک پالیسی کے تحت آسٹریلیا میں از سر نو آباد کرنے سے انکا ر کر چکا ہے۔

گرین پارٹی کے ایک سینیٹر نک میک کم کہتے ہیں کہ ساحلی علاقے سے متعلق پالیسی باعث شرم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب آپ غیر معینہ حراست کا ایک نظام بناتے ہیں، ایک ایسا نظام جسے دانستہ طور پر ذہنی پریشانی، ذہنی صدمہ پہنچانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہو، تو اس قسم کے المیے کی لازمی طور پر توقع کی جا سکتی ہے ۔

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ جولی بشپ نے کہا ہے کہ سری لنکا کے پناہ کے متلاشی کی موت کی تحقیقات پاپوا نیو گنی کے حکا م کریں گے نہ کہ کینبیرا کے عہدے دار۔

گذشتہ ہفتے پناہ گزینوں کا ایک چھوٹا سا گروپ جسے آسٹریلیا نے س سے قبل گرفتار کیا تھا گذشتہ سال أوباما انتظامیہ کی معاونت میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت پاپوا نیو گنی سے امریکہ روانہ ہو گیا تھا۔ مزید 600 افراد اب بھی منڈس میں موجود ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق اسی دوران آسٹریلیا میں رہنے والے ہزاروں پناہ کے متلاشیوں کے لیے تحفظ کے ویزوں کے لیے درخواستیں دینے کی مہلت ختم ہو گئی ہے۔

قانونی ماہرین نے جو اس کارروائی میں وضاحت کے فقدان پرتنقید کر چکے ہیں، خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ سینکڑوں تارکین وطن کو، جنہوں نے درخواست نہیں دی ہے وطن واپسی کا سامنا کرنا ہو گا۔

آسٹریلیا اس سال انسانی ہمددردی کے مختلف پروگراموں کے تحت لگ بھگ 14 ہزار لوگوں کو پناہ گزینوں کا ویزا جاری کرے گا۔ جب کہ عراق اور شام کے تنازعے سے متاثرہ مزید 12 سو افراد کی از سر نو آباد کاری کی جا چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG