رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: خشک سالی سے نمٹنے کے لیے 10 ہزار اُونٹ مارنے کا فیصلہ


فائل فوٹو

آسٹریلیا میں حکام نے 10 ہزار ایسے اُونٹ ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو جنگلات میں لگی آگ کے باعث پانی کی تلاش میں آبادیوں کا رُخ کر کے شہریوں کی جان و مال کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

آسٹریلیا میں اس سال موسم گرما میں وسیع پیمانے پر جنگلات میں آگ لگی ہے۔ جس سے لاکھوں جنگلی جانور بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ البتہ جنگلات میں لگی آگ کے باعث ہزاروں جنگلی اُونٹ پانی کی تلاش میں شہری آبادیوں کا رُخ کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ جنگلی اُونٹ بہت زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ لہذٰا پہلے سے ہی خشک سالی اور پانی کی قلت کے باعث ان جانوروں کو ہلاک کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان اونٹوں کی وجہ سے نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ بلکہ ڈرائیورز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اس ضمن میں حکام نے فوج کے ماہر نشانہ بازوں 'سنائپرز' کی خدمات حاصل کی ہیں۔ جنہوں نے بدھ سے اس پانچ روزہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ نشانہ باز ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جنگلات اور مقامی آبادیوں میں مٹر گشت کرتے ان اُونٹوں کو ہلاک کریں گے۔ حکام کے مطابق جنگلات میں موجود اُونٹوں کو وہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ البتہ مقامی آبادی کے قریب ہلاک کیے گئے اُونٹوں کو کسی کھلے مقام پر دفن کر دیا جائے گا۔

آسٹریلیا کو اس سال جنگلات میں لگی آگ کے باعث بدترین صورتِ حال کا سامنا ہے۔
آسٹریلیا کو اس سال جنگلات میں لگی آگ کے باعث بدترین صورتِ حال کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریلیا میں اس وقت لگ بھگ 10 لاکھ اُونٹ پائے جاتے ہیں۔ جن کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق اگر اُونٹوں کی آبادی میں اضافہ اسی طرح جاری رہا تو آئندہ آٹھ سے 10 سال میں ان کی آبادی 20 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

جنوبی آسٹریلیا کے محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ 'اے پی وائی لینڈ' کے مکین اُونٹوں کی خریدو فروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ لیکن خشک سالی کے باعث انہیں بڑی تعداد میں اُونٹوں کو سنبھالنا مشکل ہو رہا ہے۔

یہ اُونٹ پانی کی تلاش میں ایک دوسرے کو روندتے ہیں۔ بلکہ ہلاک ہونے والے اُونٹوں کی باقیات ثقافتی مقامات اور پانی کے اہم ذرائع کو آلودہ کرنے کا سبب بھی بن رہی ہیں۔

محکمہ ماحولیات کے مطابق جنگلات میں لگی آگ اور خشک سالی کے باعث جانوروں کی بہبود کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سیکڑوں اُونٹ بھوک اور پیاس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان جانوروں کے بہترین مفاد اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے کیا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG