رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: تارکین وطن کے لیے پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں


آسٹریلیا نے اپنی امیگریشن پالیسی میں قابل ذکر تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک میں موجود تارکین وطن کے لیے دو مزید حراستی مراکز بنانے کے علاوہ زیرحراست ایسے خاندانوں کو رہا کیا جائے گاجن کے ساتھ بچے بھی قید ہیں۔

وزیراعظم جولیا گیلارڈ نے پیر کو کہا کہ اتحادی حکومت غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے پر اظہار ہمدردی کے طور پر آئندہ سال کے وسط تک سینکڑوں بچوں اور خاندانوں کو معاشرے کا حصہ بنائے گی اور رہا کیے جانے والے بچوں کے لیے اسکولوں میں تعلیم کا حصول ضروری ہوگا۔

کرسمس آئی لینڈ میں واقع آسٹریلیا کے مرکزی امیگریشن سنٹر میں گنجائش سے زیادہ افرا د کی موجودگی کے باعث بہت سے لوگ خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں اور ان لوگوں کی طرف سے سڈنی اور ڈارون میں مظاہرے بھی کیے گئے۔ گذشتہ ماہ فجی سے تعلق رکھنے والے ایک تارک وطن نے ملک بدری سے کچھ دیر قبل سڈنی سنٹر کی چھت سے چھلانگ لگاکر خودکشی کرلی تھی۔

دو نئے حراستی مراکز مغربی آسٹریلیا میں نارتھ ہیم Northam اور جنوبی علاقے اِنوربراکئی Inverbrackieمیں قائم کیے جائیں گے۔

جولیا گیلارڈ کی حکومت مشرقی تیمور اور انڈونیشیا سے ایسے علاقائی مراکز قائم کرنے پربات چیت کررہی جہاں پناہ حاصل کرنے والوں کی درخواستوں کے عمل کی جانچ پڑتال کی جاسکے۔

XS
SM
MD
LG