رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: ’دولت اسلامیہ‘ کی مالی معاونت کی کوشش پر ایک شخص گرفتار


آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے ایک عہدیدار نیل گاؤگنان کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے 10،500ڈالر شام میں لڑنے والے ایک امریکی شہری کو بھیجنے کی کوشش کی۔

آسٹریلوی پولیس نے ایک شخص کو مبینہ طور پر ایک امریکی شہری کو فنڈز فراہم کرنے کی کوشش پر گرفتار کیا ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ شام میں اسلامی شدت پسندوں کی طرف سے کی جانے والی لڑائی میں شامل ہے۔

23 سالہ شخص جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی منگل کو جنوبی آسڑیلیا کے شہر میلبورن میں کئی مکانوں پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔

آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے ایک عہدیدار نیل گاؤگنان کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے 10,500 ڈالر شام میں لڑنے والے ایک امریکی شہری کو بھیجنے کی کوشش کی۔

گاؤگنان نے کہا کہ "میں یہ تصدیق کر سکتا ہوں کہ سی بروک سے تعلق رکھنے والے ایک 23 سالہ شخص نے جان بوجھ کر ایک دہشت گرد تنظیم کو فنڈز فراہم کرنے کی کوشش کی یہ جانتے ہوئے کہ وہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے"۔

پولیس کا کہنا کہ یہ مشتبہ شخص انفرادی حیثیت میں کام کر رہا تھا اور اس شخص کی وجہ سے عوام کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس شخص کا اس مشتبہ دہشت گرد سے کوئی تعلق نہیں جسے گزشتہ ہفتہ پولیس نے میلبورن میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

18 سالہ افغان نژاد آسٹریلوی نوجوان نے گزشتہ جمعرات کو میلبورن کے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر دو پولیس اہلکاروں کو چاقو کے وار سے زخمی کر دیا تھا۔ دونوں پولیس اہلکاروں کی حالت اب بہتر ہو رہی ہے۔

وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ چاقو سے حملہ دولت اسلامیہ کے گروہ سے متاثر ہو کر کیا گیا ہے۔

آسٹریلیا جو شام اور عراق میں "دولت اسلامیہ" کے خلاف امریکہ کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے اس عسکری گروہ کی طرف سے کسی بھی ممکنہ حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

دو ہفتے پہلے پولیس نے انسداد دہشت گردی کے تحت کی گئی کارروائی میں 16 افراد کو حراست میں لیا تھا اور ان میں ایک شخص پر الزام ہے کہ اس نے شام میں دولت اسلامیہ کے ایک رہنما کے ساتھ مل کر ایک شخص کا سرقلم کرنے کی سازش کی تھی۔

XS
SM
MD
LG