رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: وزیرِاعظم گیلارڈ کو پارٹی انتخابات میں شکست


امکان ہے کہ مس گیلارڈ جمعرات کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی جس کے بعد کیون رڈ ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیں گے۔

آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم جولیا گیلارڈ حکمران جماعت 'لیبر پارٹی' کے سربراہ کا انتخاب ہار گئی ہیں جس کے بعد امکان ہے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہوجائیں گی۔

بدھ کو حکمران جماعت کے منتخب اراکینِ پارلیمان نے پارٹی کے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جن میں سے سابق وزیرِاعظم رڈ کو 57 ووٹ ملے۔وزیرِاعظم گیلارڈ 45 ووٹ حاصل کرپائیں۔

خیال رہے کہ جولیا گیلارڈ نے حکمران جماعت میں دھڑے بندی اور کیون رڈ کی جانب سے قیادت کے حصول کی مبینہ کوششوں کے بعد انہیں پارٹی سربراہ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا چیلنج دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ انتخاب میں شکست کی صورت میں سیاست چھوڑ دیں گے۔

انتخاب ہارنے کے بعد وزیرِاعظم کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن امکان ہے کہ وہ جمعرات کو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی جس کے بعد کیون رڈ ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیں گے۔

کیون رڈ اس سے قبل نومبر 2007ء سے جون 2010ء تک آسٹریلیا کے وزیرِاعظم رہ چکے ہیں اور انہیں جولیا گیلارڈ کے ہاتھوں پارٹی انتخابات میں شکست کے بعد وزارتِ عظمیٰ چھوڑنی پڑی تھی۔

پارٹی انتخاب میں کامیابی کے بعد اب کیون رڈ ستمبر میں ہونے والے عام انتخابات میں 'لیبر پارٹی' کی قیادت کریں گے جس میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 'لیبر پارٹی' کو روایت پسند حزب ِ اختلاف کے ہاتھوںشکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بعض جائزوں میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ کیون رڈ وزیرِاعظم گیلارڈ کے مقابلے میں زیادہ مقبول سیاسی رہنما ہیں جن کی قیادت کے نتیجے میں حکمران جماعت نسبتاً زیادہ نشستیں جیت سکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG