رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلوی وزارت عظمیٰ کے لیے کانٹے دار مقابلہ متوقع


شمالی شہر ڈاروِن میں ڈرٹی ہیری کے پنجرے میں جمعرات کے روز وزیر اعظم گیلارڈ اور حرب اختلاف کے رہنما ٹونی ایبٹ کے خاکوں کے نیچے مردہ مرغیاں لٹکائی گئی تھیں اور مگرمچھ نے ان دونوں کو سونگھنے کے بعد اس مرغی کو کھینچ لیا جو وزیر اعظم گیلارڈ کے خاکے کے نیچے لٹک رہی تھی۔

آسٹریلیا کے نئے وزیر اعظم کا انتخاب ہفتہ کے روز ہو رہا ہے اور اب تک ہونے والے عوامی جائزوں کے نتائج کے مطابق دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

انتخابات میں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی جولیا گیلارڈ، جو موجودہ وزیر اعظم بھی ہیں، کا سامنا لبرل اور نیشنل پارٹیز کے سیاسی اتحاد کے ٹونی ایبٹ سے ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان قرضے میں کمی، کان کنی پر تجویز کردہ ٹیکس کی حمایت اور ملک میں ٹیلی کمیونیکیشن کے نئے ڈھانچے سمیت مختلف معاملات پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔

تازہ جائزوں میں دونوں مخالف جماعتوں کو برابر حمایت حاصل ہے۔

جولیا گیلارڈ نے جون میں کیئون رڈ کی جگہ وزارت عظمیٰ کا قلم دان سنبھالا تھا اور وہ آسٹریلیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں۔ گذشتہ چند ماہ میں انھوں نے کئی مشکلات کا سامنا کیا ہے جس میں کان کنی کی صنعت پر ٹیکس، کمزور معاشی صورتحال اور اپنی جماعت میں مخالفت شامل ہیں۔

ڈرٹی ہیری کی پیش گوئی

گذشتہ ماہ عالمی فٹبال چمپیئن کی درست پیش گوئی کرنے والے ”ڈرٹی ہیری“ نامی مگرمچھ نے ملک میں ہفتہ کے انتخاب میں وزیر اعظم جولیا گیلارڈ کے دوبارہ منتخب ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔

شمالی شہر ڈاروِن میں ڈرٹی ہیری کے پنجرے میں جمعرات کے روز وزیر اعظم گیلارڈ اور حرب اختلاف کے رہنما ٹونی ایبٹ کے خاکوں کے نیچے مردہ مرغیاں لٹکائی گئی تھیں اور مگرمچھ نے ان دونوں کو سونگھنے کے بعد اس مرغی کو کھینچ لیا جو وزیر اعظم گیلارڈ کے خاکے کے نیچے لٹک رہی تھی۔

XS
SM
MD
LG