رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشین طیارہ: جائے حادثہ کی صورتِ حال پر آسٹریلیا کا اظہارِ تشویش


مشرقی یوکرین میں گر کر تباہ ہونے والے ملائیشین ائر لائنز طیارے پر آسڑیلیا کے 37 شہری بھی سوار تھے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے ملائشیا ائرلائن کی پرواز ایم ایچ 17 کے تباہ ہونے والے مقام کے بارے میں کہا ہے کہ "یہ جگہ انتشار و بدنظمی کی حالت میں ہے" اور انھوں نے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حادثے کی تفتیش سے متعلق اپنی یقین دھانی کو عمل سے ثابت کریں۔

ملائیشین ائر لائنز ایم ایچ 17 کی پرواز کو مبینہ طور میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، اُس پر 298 افراد سوار تھے جن میں سے 37 آسڑیلیا کے شہری تھے۔

مغربی ملکوں نے جہاز کو گرانے کا الزام یوکرین کے علیحدگی پسند باغیوں پر عائد کیا ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس جگہ پر ابھی بھی کلی طور پر انتشار و بدنظمی کی حالت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فرانزک تفتیش نہیں ہو رہی بلکہ کسی باغ کی صفائی ہو رہی ہے‘‘۔

ٹونی ایبٹ کا مزید کہنا ہے کہ ’’اس میں کوئی شبہ نہی کہ یہ جگہ روس نواز باغیوں کی قبضے میں ہے اور اب جب کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ طیار ے کو گرانے کی ذمہ داری روس نواز باغیوں پر عائد ہوتی ہے اور ان ہی لوگوں کو جائے حادثہ کی ذمہ داری دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی جائے واردات کا کنڑول کسی مجرم کو دے دیا جائے۔‘‘

ایبٹ نے ایک 'بریک فاسٹ ریڈیو شو' میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے روسی صدر پوٹن سے حادثہ کے بعد پہلی بار اس وقت بات کی جب حادثہ کا شکار ہونے والوں کی لاشوں سے کیے جانے والے سلوک پر غم و غصہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایبٹ نے کہا کہ ’’اب چیلنج یہ ہے کہ صدر(پوٹن) اپنا وعدہ پورا کریں اور میری بھی یہی خواہش ہے اور ان سب ملکوں کے خاندان یہ چاہیں گے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں‘‘۔

ہالینڈ کے وزیراعظم اور ان کی برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر فرانسو اولان نے بھی ہفتہ کے اواخر میں صدر پوٹن سے ہونے والی بات چیت میں ان سے ایسا ہی مطالبہ کیا۔

ماسکو اس حادثہ میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔

آسٹریلیا اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے ایک ایسی مجوزہ قرار داد کی منظوری کے لیے کوشش کر رہا ہے جس کے تحت مطالبہ کیا جائے گا کہ حادثہ کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے اور مسلح گروہ جائے حادثہ کو خراب نہیں کریں گے۔

سفارت کاروں کا کہنا ہےکہ آسٹریلیا کی مجوزہ قرار داد پر رائے شماری پیر کو ہو سکتی ہے۔

اس مجوزہ قرار داد میں بین الاقوامی رسائی کے ساتھ ساتھ علاقے میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ روس سمیت تمام ممالک اس میں تعاون کریں۔

آسڑیلیا کی 45 رکنی تفتیسی ٹیم یا تو کیئف پہنچ چکی ہے یا کیئف کی طرف روانہ ہے لیکں اب تک وہ جائے حادثہ پر پہچنے میں کامیاب نہں ہو سکی۔

ملائشیا ائیر لائینز کا کا طیارہ گزشتہ جمعرات کو مشرقی یوکرین میں اس وقت گر کر تباہ ہو گیا جب وہ ایمسٹرڈیم سے کوالالیمپور کے لیے پرواز کر رہا تھا۔ جہاز میں عملے سمیت 298 افراد سوار تھے اس حادثہ میں کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔

ہلاک ہونے والے مسافروں کا تعلق ہالینڈ، ملائیشیا، آسٹریلیا، انڈونیشیا اور برطانیہ سے تھا۔

XS
SM
MD
LG