سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند ، زمین اور سورج کے درمیان حائل ہوکر اس کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔
آسٹریلیا کے شمالی علاقوں میں بدھ کی صبح مکمل سورج گرہن سے تاریکی چھا گئی ۔
مکمل سورج گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے ایک اندازے کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ افراد نے ان علاقوں کا سفر کیا جہاں مکمل گرہن دکھائی دینے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
سورج کو گرہن اس وقت لگتا ہے جب چاند ، زمین اور سورج کے درمیان حائل ہوکر اس کی روشنی زمین تک پہنچنے سے روک دیتا ہے۔زمین سے عام طورپر جزوی گرہن دکھائی دیتے ہیں اور مکمل گرہن کا نظارہ عرصے بعد ہوتا ہے۔
گرہن کا منظر دیکھنے کے لیے ہزاروں افراد نے ساحل سمندر کا رخ کیا۔ انہوں نے نقصان دہ شعاعوں سے بچنے کے لیے خصوصی چشمے پہن رکھے تھے۔
مکمل سورج گرہن کے نظارے
1/9آسٹریلیا کے شہر کینز میں چاند سورج کی روشنی کو اور بادل اس منظر کو ڈھانپ رہے ہیں
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
2/9کینز میں مکمل سورج گرہن کا ایک خوبصورت منظر
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
3/9ایک موقع پر زمین اور سورج کے درمیان چاند کے سفر نے سورج کو بھی چاند کا روپ دے دیا
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
4/9شمالی آسٹریلیا کے ایک قصبے کے لوگ سورج گرہن دیکھنے کے لیے جمع ہیں
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
5/9شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن کا ایک منظر
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
6/9مکمل سورج گرہن سے شمالی آسٹریلیا کے اکثرعلاقوں میں تاریکی چھا گئی
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
7/9ساحل سمندر پر سورج گرہن کا نظارہ کرنے والوں کا ہجوم
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
8/9شمالی آسٹریلیا کی ایک ساحلی بستی میں سیاح سورج گرہن کا منظر دیکھ رہے ہیں
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
9/9شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن کی ایک یاد گار تصویر
14 نومبر2012 کی صبح شمالی آسٹریلیا میں مکمل سورج گرہن سے نیم تاریکی چھا گئی۔ گرہن کا نظارہ کرنے کے لیے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد نے ساحلی علاقوں کا رخ کیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر ساحلوں پر کھڑے ہوکر، سینکڑوں نے سمندر کے اندر کشتیوں میں بیٹھ کر اور بیسیوں نے کرائے کے گرم ہوا کے غباروں میں بلندی پر جاکر ان نظاروں کو اپنی یادوں کا حصہ بنایا۔
Previous slide
Next slide
بہت سے افراد گرہن کو زیادہ واضح دیکھنے کے لیے کشتیوں میں سوار ہوکر سمندر میں دور تک چلے گئے اور کئی افراد نے گرم ہوا کے خصوصی غباروں میں بیٹھ کر بلندی سے مکمل سورج گرہن کا نظارہ کیا۔
گرہن شروع ہونے سے قبل آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئےتھے جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ شاید لوگ یہ منظر نہیں دیکھ سکیں گے۔ لیکن جیسے جیسے گرہن شروع ہونے کا قریب آتا گیا، بادل چھٹتے اورمنظر واضح ہوتا گیا۔