رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلیا: دہشت گردی کا منصوبہ، پانچ افراد پر الزام عائد


پولیس کے ڈپٹی کمشنر نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اِس سے قبل، آج ہی کے روز پولیس نے سڈنی کے مغرب میں ایک 15 برس کے لڑکے اور ایک 20 سالہ شخص کو گرفتار کیا، جن پر دہشت گردی کی سازش تیار کرنے کا الزام ہے

دہشت گردی کے ذریعے سرکاری عمارات کو اُڑانے کی منصوبہ سازی کے الزام میں آسٹریلیا کے حکام نے جمعرات کو ایک نوجوان اور چار مشتبہ افراد کے خلاف فرد جرم عائد کیا، جس میں سڈنی میں آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے صدر دفتر اور شہریوں کو بلا تفریق ہدف بنانے کا الزام شامل ہے۔

آسٹریلیا کی وفاقی پولیس کے ڈپٹی کمشنر، مائیکل فلان نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اِس سے قبل، آج ہی کے روز پولیس نے سڈنی کے مغرب میں ایک 15 برس کے لڑکے اور ایک 20 سال کے شخص کو گرفتار کر لیا، جن پر دہشت گردی کی سازش تیار کرنے کا الزام ہے۔

مائیکل فلان نے بتایا کہ دسمبر میں تلاشی کے وارنٹ موصول ہونے پر ہمارے اہل کار انتھک کوششیں کرتے ہوئے شواہد اکٹھے کرتے رہے، جس سے قبل الیکٹرانک اور جسمانی نگرانی کے عمل کے دوران ملنے والی اطلاعات کو اکٹھا کیا گیا۔

بقول اُن کے، ’اکٹھا کیا گیا ثبوت آج عدالت کے سامنے پیش کیا گیا، جس میں دو افراد کے خلاف دہشت گردی کی سازش تیار کرنے کا الزام ہے۔‘

تین دیگر افراد پہلے ہی دہشت گردی کے الزامات پر جیل میں ہیں۔ پولیس کے مطابق، اُن پر الزام ہے کہ اُنھوں نے سازش رچانے میں حصہ لیا۔ سزا کی صورت میں، مشتبہ افراد کو عمر قید ہو سکتی ہے۔

اُسی اخباری کانفرنس میں، پولیس کی ڈپٹی کمشنر، کیتھرین بَرن نے بتایا کہ یہ پریشان کُن امر ہے کہ ایک کم عمر کو بالغ کی طرح ’انتہائی سنجیدہ جرم‘ کا الزام دیا گیا۔

ستمبر 2014ء میں جب سے دہشت گردی کے انتباہ کی سطح میں اضافے کا اعلان کیا گیا، آسٹریلیا کی پولیس ملک بھر میں باقاعدگی کے ساتھ چھاپے مارتی رہی ہے، چونکہ کہا کیا گیا تھا کہ داعش کے حامی داخلی شدت پسند ملک کے لیے خطرناک صورت حال پیدا کر سکتے ہیں۔



XS
SM
MD
LG