رسائی کے لنکس

logo-print

آسٹریلوی فوجی عراق میں موجودگی کے قانونی تحفظ کے منتظر


آسٹریلوی وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ اس حوالے سے معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی فورسز کسی زمینی لڑائی میں شامل نہیں ہوں گی۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے کہا ہے کہ عراقی حکومت نے ابھی تک عراق بھیجے جانے والے آسٹریلوی دستوں کے لیے قانونی تحفظ کی منظوری نہیں دی ہے۔

یہ آسٹریلوی دستے عراقی فورسز کی دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی میں ان کی معاونت کریں گے۔

ایبٹ نے بدھ کو کہا کہ (آسٹریلوی) اسپیشل فورسز ابھی تک عراق میں داخل نہیں ہوئیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ اس حوالے سے معاہدہ جلد طے پا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی فورسز کسی زمینی لڑائی میں شامل نہیں ہوں گی۔

گزشتہ ہفتے چھ آسٹریلوی طیاروں نے عراق میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف ہونے والی فضائی کارروائیاں میں حصہ لیا تھا۔

دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں اغوا اور یرغمال بنانے کے جنسی زیادتی کا نشانہ بنائی جانی والی خواتین اور لڑکیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ ان شدت پسندوں کے"اخلاقی طور پر برے رویے" کی تازہ مثالیں ہیں ۔

کیری نے کہا کہ ظلم اور زیادتی کا نشانہ بننے والے خواتین اور لڑکیوں میں ایسی بھی ہیں جن کی عمر 12 سال ہے ۔

امریکہ نے اگست میں عراق میں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں جن کا ایک مقصد شامی سرحد کے قریب پھنسے ہوئے یزیدی اقلیت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی ہلاکت کو روکنا تھا۔

کیری نے دولت اسلامیہ کی کارروائیوں کو انسانی وقار کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

صدر براک اوباما نے بھی منگل کو کہا تھا کہ عراق کے انبار صوبے اورشام کے کوبانی کے علاقے میں اتحادی ملکوں کی فضائی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG