رسائی کے لنکس

ویانا میں پاکستانی سفارت کار لاپتا، ترنول میں ایف آئی آر درج


پاکستان میں حکام اس وقت آسٹریا کے شہر ویانا میں سفارتخانہ چھوڑ کر غائب ہوجانے والے سفارتی اہلکار کی تلاش میں ہیں جس کے بارے میں پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اہم حساس اور سرکاری دستاویزات لیکر غائب ہوگیا ہے۔ پاک فوج میں بطور کلرک کام کرنے والے شخص کے خلاف وزارت دفاع نے پاکستان میں مقدمہ بھی درج کروا دیا ہے۔

اسلام آباد کے تھانہ ترنول میں درج ہونے والی اس ایف آئی آر کے مطابق، اس اہلکار کا نام زاہد ولد عزیز الرحمٰن ہے جو پاکستان کی فوج میں سپاہی ہے اور بعدازاں کلرک کے عہدے پر کام کررہا تھا۔ زاہد کو ویانا میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات کیا گیا وزارت دفاع کی طرف سے حساس نوعیت کی ڈیوٹی دی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق، زاہد اہم ملکی امور کا نگران مقرر تھا جو کہ نہ صرف اہم نوعیت کی ڈیوٹی تھی، بلکہ ملکی سلامتی کے حوالے سے نہایت حساس ڈیوٹی بھی تھی۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ویانا کے متعلقہ حکام نے آگاہ کیا ہے کہ زاہد 2 جنوری سے بغیر اجازت غائب ہے اور اس دوران ایمبیسی کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو حساس معلومات رکھنے والے کاغذات غائب پائے گئے۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلہ میں زاہد کے اہل خانہ سے پاکستان میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا ہے کہ زاہد نے ٹیلی فون پر بتایا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے چلا گیا ہے اور پانچ سال کے بعد ملے گا۔

اس دوران زاہد نے اپنے بیوی اور بچوں کو پاکستان واپس بھجوا دیا ہے۔ زاہد کے والدین، بھائی اور بیوی اس سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ لیکن، کوئی اطلاع دینے سے گریزاں ہیں اور اس جرم میں دانستہ طور پر اس کی معاونت کر رہے ہیں۔

تھانہ ترنول میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ حساس دفاعی ادارے کے رکن کے طور پر زاہد ملک کے انتہائی اہم رازوں کا امین تھا اور امکان ہے کہ وہ ملک دشمن عناصر کا آلہ کار بن گیا ہے۔

مقدمہ میں زاہد کے والد عزیز الرحمٰن، والدہ نورالنسا، بھائی محمد ندیم اور بیوی سائرہ منیبہ کو نامزد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اس جرم میں اس کی معاونت کر رہے ہیں۔

درج ایف آئی آر میں ملک دشمن عناصر کا آلہ کار بننے اور حساس کاغذات کی چوری کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس پر اس کے خلاف دفعہ 409 لگائی گئی ہے جو کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے دھوکہ دینے اور اعتماد کی خلاف ورزی سے متعلق ہے، جبکہ اسکے اہل خانہ کے خلاف دفعہ 109 لگائی گئی ہے جو اعانت جرم اور کسی جرم میں مشورہ دینے سے متعلق ہے۔

یہ ایف آئی آر وزارت دفاع کے انسپکٹر محمد اشفاق کی تحریری درخواست پر درج کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں دفترخارجہ کے ترجمان نے بھی اس اہلکار کے غائب ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس اہلکار کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا ہے، تاکہ پاسپورٹ منسوخی کے بعد امکان ہے کہ وہ واپس آجائے گا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں مزید تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ اہلکار آسٹریا میں انتظامی سیکشن میں ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا۔ دفترخارجہ آسٹریا حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

ایک امکان یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ بہتر کمائی، بہتر مستقبل اور یورپ میں مستقل قیام کی خواہش میں یہ اہلکار یورپ میں سیاسی پناہ حاصل کرکے رہنا چاہتا ہے۔ تاہم، فوج کا اہلکار ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے یہ ایف آئی آر درج اور دیگر اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ایف آئی آر کے آخر میں پولیس کی طرف سے کہا گیا ہے کہ معاملہ ملکی اور سنگین نوعیت کا ہے اور وقوعہ بھی ملک سے باہر سرزد ہوا ہے۔ لہذا، ملکی مفاد اور سنگین معاملہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ افسران کی اجازت سے قانونی رائے کے لیے بھجوایا جائے گا اور پولیس کی لیگل ٹیم سے رائے موصول ہونے پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG