رسائی کے لنکس

logo-print

جرمنی تارکین وطن کو واپس بھیج رہا ہے: آسٹرین پولیس


آسٹریا کی پولیس کی ایک ترجمان کے مطابق سال نو کے بعد سے روزانہ دو سو تک افراد کو جرمنی کی سرحد سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔

آسٹریا کی پولیس کے مطابق جرمنی اپنی جنوبی سرحد پر تارکین وطن کو داخلے کی اجازت نہیں دے رہا اور روزانہ سیکڑوں افراد کو واپس آسٹریا بھیج رہا ہے۔

سال نو کی موقع پر کولون میں خواتین اور دیگر جرمن شہریوں پر ہونے والے حملوں کے بعد ایسی ہی شکایات موصول ہوئی ہیں جب کہ پولیس ان کا شبہ پناہ کے متلاشیوں پر ظاہر کر رہی اور چانسلر آنگیلا مرخیل کی طرف سے تارکین وطن کو خوش آمدید کہنے کی پالیسی بھی ان دنوں تنقید کی زد میں ہے۔

سرحد پر داخلے سے منع کیے جانے والوں کے پاس جرمنی میں پناہ کے لیے درخواست دینے کی ضروری دستاویز موجود نہیں۔

آسٹریا کی پولیس کی ایک ترجمان کے مطابق سال نو کے بعد سے روزانہ دو سو تک افراد کو جرمنی کی سرحد سے واپس بھیجا جا رہا ہے۔

ادھر جرمنی کی چانسلر مرخیل کا کہنا ہے کہ یورپ تارکین وطن کے بحران کے لیے تیار نہیں تھا۔

"اب اچانک ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا ہے کہ مہاجرین یورپ میں آرہے ہیں اور ہم نے ابھی تک اس ضمن میں قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے ہیں۔

دریں اثناء دارالحکومت برلن میں عراق کے سفارتخانے سے حال ہی میں 1400 ایسے عراقی تارکین وطن پاسپورٹ جاری کیے گئے ہیں جو واپس اپنے ملک جانا چاہتے ہیں۔

گزشتہ سال جرمنی میں پناہ کے لیے درخواست دینے والے ملکوں میں عراق پانچویں نمبر پر تھا۔

حالیہ ہفتوں میں ہی جرمن حکومت نے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے آبائی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے ایسے شہریوں کو پاسپورٹ جاری کریں جو کہ واپس جانے پر آمادہ ہیں۔

XS
SM
MD
LG