رسائی کے لنکس

سوشل میڈیا پر توہین مذہب کے مرتکب کو سخت ترین سزا


پاکستان میں قانون کے مطابق، توہین مذہب کی سزا موت ہے۔ لیکن، یہ پہلا موقع ہے کہ سائبر کرائم کے تحت کی گئی کارروائی میں کسی ملزم کو یہ سزا سنائی گئی۔

ایک ایسے وقت جب پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر توہین مذہب اور ریاستی اداروں کو 'تضحیک' کا نشانہ بنانے والوں کے لیے حکام کارروائیوں میں مصروف ہیں، سوشل میڈیا پر توہینِ رسالت کے مرتکب ایک شخص کو عدالت کی طرف سے سخت ترین سزا سنائی گئی ہے۔

پنجاب کے شہر بہاولپور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ہفتہ کو تیمور رضا کو فیس بک اور واٹس ایپ پر توہین آمیز مواد شیئر کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی۔

پاکستان میں قانون کے مطابق، توہین مذہب کی سزا موت ہے۔ لیکن، یہ پہلا موقع ہے کہ سائبر کرائم کے تحت کی گئی کارروائی میں کسی ملزم کو یہ سزا سنائی گئی۔

وکیل استغاثہ محمد شفیق قریشی نے 'وائس آف امریکہ' کو بتایا کہ تیمور پر پیغمبر اسلام اور ان کے صحابہ سے متعلق نازیبا تحریریں اور تصاویر انٹرنیٹ پر جاری کرنے کا جرم ثابت ہوا۔ ان کے بقول، تیمور کے فیس بک اکاؤنٹ پر ساڑھے تین ہزار سے زائد لوگ موجود ہیں۔

سزائے موت پانے والا یہ مجرم عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتا ہے۔

تیمور کو گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس کے ریکارڈ کے مطابق اس نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ایک شیعہ عسکریت پسند گروپ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں سوشل میڈیا پر توہین مذہب پر مبنی مواد کا معاملہ خاصی توجہ کا مرکز رہا اور حکومت نے ان لوگوں کے خلاف کارروائیوں کو بھی مہمیز کیا ہے جس پر حزب مخالف اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے یہ کہہ کر تنقید کی جا رہی ہے حکومت مبینہ طور پر اپنے مخالفین اور ریاستی اداروں کے احتساب کا مطالبہ کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن، حکومتی عہدیداران ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر کسی بھی توہین مذہب یا ریاستی اداروں کی تضحیک کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

رواں سال اوائل میں ملک کے مختلف حصوں سے اچانک لاپتا اور پھر پراسرار انداز میں بازیاب ہونے والے چار بلاگرز پر بھی بعض حلقوں کی طرف سے توہین مذہب کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

تاہم، ان بلاگرز نے ان الزامات کو مسترد تو کیا تھا۔ لیکن، اکثر سلامتی کے خدشات کے پیش نظر مک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

پاکستان میں توہینِ مذہب ایک حساس معاملہ ہے اور جہاں اکثر ایسے واقعات رونما ہو چکے ہیں کہ قانون کی گرفت میں آنے سے قبل ہی توہین مذہب کے مبینہ ملزم کو مشتعل ہجوم تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیتا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں آزاد خیال حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے توہین مذہب کے غلط استعمال کو روکے جانے کے لیے ٹھوس اقدام کرنے کے مطالبات میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن تاحال اس ضمن میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔

گزشتہ ہفتے ہی عدالت عظمیٰ نے توہینِ مذہب کے الزام میں ماتحت عدالتوں کی طرف سے عمر قید کی سزا پانے والے ایک مجرم کو ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے سزا سنانے سے قبل ماتحت عدالتوں نے شفاف کارروائی نہیں کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG