رسائی کے لنکس

بابری مسجد کا تنازع عدالت سے باہر طے کرنے کی کوششیں


مسلم سرگرم کارکن بابری مسجد کی تعمر نو کے حق میں نئی دہلی میں مظاہرہ کر رہے ہیں، فائل فوٹو

ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بورڈ کے بعض ارکان آرٹ آف لیونگ فاونڈیشن کے بانی سے رابطے میں ہیں۔

سہیل انجم

بابری مسجد رام مندر تنازع کے حل کے سلسلے میں ہندو گروپ نے ایک بار پھر اپنے معتمد، دھارمک گرو اور آرٹ آف لیونگ فاؤنڈیشن کے بانی شری روی شنکر کا نام سامنے لاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے بھی ایک بیان میں کہا گیا کہ روی شنکر ، عدالت سے باہر تصفیے کے سلسلے میں متعدد اماموں اور سوامیوں کے رابطے میں ہیں۔

لیکن دونوں میں سے کوئی بھی فریق اس معاملے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے۔ بلکہ دونوں نے ہی دھارمک گرو کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔

بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ رام ولاس ویدانتی نے کہا کہ کوئی بھی شخص جو رام مندر تحریک سے وابستہ نہیں رہا اور جس نے کبھی رام کے درشن نہیں کیے وہ اس معاملے میں ثالث کیسے بن سکتا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی ایسی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی اور کہا کہ اس تنازع کا تصفیہ صرف عدالت سے ہی ہو سکتا ہے۔

بورڈ کے رکن اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے اس کی ترديد کی کہ بورڈ نے روی شنکر سے بات کرنے کے لیے کسی کو مجاز ٹھہرایا ہے یا کوئی نمائندہ مقرر کیا ہے۔

لیکن ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بورڈ کے بعض ارکان آرٹ آف لیونگ فاونڈیشن کے بانی سے رابطے میں ہیں۔

بورڈ کے ایک رکن نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے اپنا نام راز میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے بنگلور میں فاؤنڈیشن کے بانی روی شنکر سے ملاقات کی تھی اور بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا ولی رحمانی کی روی شنکر سے بذریعہ فون بات بھی کرائی تھی۔ لیکن اس نے اس ملاقات اور گفتگو کو ذاتی قرار دیا۔

جبکہ بورڈ کے ترجمان مولانا سجاد نعمانی اور رکن کمال فاروقی نے کہا کہ اگر کوئی ٹھوس فارمولہ سامنے آتا ہے اور وہ انصاف پر مبنی ہوتا ہے تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے ٹھوس فارمولے کی وضاحت نہیں کی۔

ہندو انہتیا پسند جماعت شیو سینا کے ارکان نئی دہلی میں بابری مسجد کے مقام پر رام مند کی تعمر کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو
ہندو انہتیا پسند جماعت شیو سینا کے ارکان نئی دہلی میں بابری مسجد کے مقام پر رام مند کی تعمر کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

ادھر دہلی جامع مسجد کے امام مولانا سید احمد بخاری نے مولانا ولی رحمانی اور روی شنکر کی بات چیت پر یہ خدشہ ظاہر کیا کہ یہ بات چیت کسی منصوبہ بند سازش کا حصہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے اس قضیہ کو حل کرنے کے لیے بات چیت میں ثالث بننے اور ججوں کا ایک پینل تشکیل دینے کی پیش کش کی تھی جسے ٹھکرا دیا گیا تھا۔ لیکن اب بات چیت کیوں کی جا رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے عہدے دار اس تنازع کا کوئی حل نکال پائیں گے؟ دوسری بات یہ کہ انہیں بات چیت کا اختیار کس نے دیا؟ بورڈ تو پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ ہم عدالت کا فیصلہ مانیں گے۔ تو پھر بات چیت کا ڈرامہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ جب کہ بورڈ کو یہ بات کہنی ہی نہیں چاہیے تھی، کیونکہ اب جس طرح کی سازشیں ہو رہی ہیں اور درپردہ جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس سے یہ اندیشہ ہے کہ عدالت کا فیصلہ بابری مسجد کے حق میں نہیں آئے گا کیونکہ مسلمان تقریباً یہ مقدمہ ہار چکے ہیں۔

احمد بخاری نے مزید کہا کہ ماضی میں بھی ماورائے عدالت تصفیہ کی کئی بار کوششیں ہوئی ہیں اور ہر کوشش ناکام ہوئی کیونکہ ہندوؤں کی طرف سے یہ مطالبہ ہوتا رہا ہے کہ مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہو جائیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا سید جلال الدین عمری اور جمعیة علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھی ماورائے عدالت تصفیہ کی مخالفت کی اور اس بات پر زور دیا کہ عدالت کو ہی فیصلہ کرنے دیا جائے۔

بی جے پی، آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے راہنماؤں کی جانب سے متعدد بار ایسے بیانات آتے رہے ہیں کہ جلد ہی رام مندر کی تعمیر شروع کر دی جائے گی۔

ادھر اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے پیر کے روز روی شنکر سے ملاقات کے بعد کہا کہ 2018 میں رام مندر کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ وسیم رضوی نے بابری مسجد کو شیعہ مسجد قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں فریق بننے کا اعلان کیا ہے۔ متعدد شیعہ راہنماؤں اور علما نے ان کے دعوے کی پرزور مخالفت کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG