رسائی کے لنکس

بحرین: انسانی حقوق کے معروف کارکن کو پانچ برس قید کی سزا


فائل

سعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے فضائی حملوں اور قید خانوں میں مبینہ زیادتیوں پر تنقیدی ٹوئیٹ کی پاداش میں بحرین کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کے معروف کارکن، نبیل رجب کو پانچ برس قید کی سزا سنائی ہے۔

اُن کے خلاف عائد کیے گئے الزامات میں ایک ہمسایہ ملک اور قومی اداروں کے خلاف ہتک آمیز کلمات کا استعمال شامل ہے۔

سنہ 2011میں جمہوریت نواز احتجاج کے دوران رجب نے ایک سرکردہ کردار ادا کیا تھا، ایسے میں جب خطے بھر کے ملکوں میں مظاہرے جاری تھے۔

تب سے اُنھیں کئی بار قید کیا گیا ہے اور بدھ کے روز آنے والے فیصلے سے قبل، ٹیلی ویژن انٹرویو میں بیان دینے پر وہ دو سال کی جیل کاٹ رہے تھے۔

رجب ’انسانی حقوق مرکز بحرین‘ کے صدر ہیں، جنھوں نے اپنے مقدمے کو ’’انصاف کا مذاق‘‘ قرار دیا ہے۔

بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا مستقل موجود ہے۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان، ہیدر نوئرٹ نے منگل کے روز اخباری نمائندوں کو بتایا کہ رجب کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلوں پر امریکہ کو ’’مایوسی‘‘ ہوئی ہے۔

بقول اُن کے، ’’اپنی شدید تشویش کے بارے میں ہم نے حکومتِ بحرین کے ساتھ گفتگو جاری رکھی ہوئی ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG