رسائی کے لنکس

logo-print

سکیورٹی اداروں پر آٹھ بلوچ خواتین کو لاپتا کرنے کا الزام


لاپتا بلوچ افراد کی رہائی کے لیے سرگرم ماما قدیر کی ایک فائل فوٹو

وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے ماما قدیر کا کہنا تھا کہ لاپتا خواتین میں بلوچ علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی بیمار اہلیہ بھی شامل ہیں جو علاج کے لیے بچوں اور دو خواتین سمیت کوئٹہ آرہی تھیں

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچ قوم پرست رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی بیوی سمیت آٹھ خواتین لاپتا ہوچکی ہیں جن کی گمشدگی میں سکیورٹی ادارے ملوث ہیں۔

تنظیم 'وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز' کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے چند روز قبل کر اچی سے 'بلوچ ہیومن رائٹس' کی خاتون سیکرٹری اطلاعات عطا نواز کو حراست میں لے گیا تھا جس کے بعد گزشتہ دو روز کے دوران مزید سات خواتین کو کوئٹہ کے علاقے سریاب سے حراست میں لیا جا چکا ہے۔

وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے ماما قدیر کا کہنا تھا کہ لاپتا خواتین میں بلوچ علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی بیمار اہلیہ بھی شامل ہیں جو علاج کے لیے بچوں اور دو خواتین سمیت کوئٹہ آرہی تھیں جنہیں سریاب روڈ پر مسافر بس سے اُتار کے سکیورٹی ادارے اپنے ساتھ لے گئے۔

ماما قدیر کے مطابق سکیورٹی اداروں نے کالعدم تنظیم 'بلوچ لبریشن آرمی' کے ایک کمانڈر اسلم بلوچ کی بہن کو بھی ان کے بچوں اور تین دیگر خواتین کے ساتھ گھر سے اٹھا لیا ہے۔

گزشتہ روز مقامی میڈیا نے خبر دی تھی کہ سکیورٹی اداروں نے پاک افغان سرحد پر چمن سے تین خواتین کو گرفتار کیا ہے جن کو مزید تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت کے تر جمان انوار الحق کاکڑ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تین مشتبہ خواتین کو غیر قانونی طور پر پاک افغان سرحد پار کر نے کے دوران گرفتار کیا گیا۔

اُن کے بقول ابتدائی معلومات کے مطابق ان خواتین کے کالعدم تنظیموں سے تعلق کا انکشاف ہوا ہے اور اُن سے مزید تفتیش کی جارہی ہے۔

وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان اس سلسلے میں صحافیوں کو ایک دو روز میں تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔

ان لاپتا بلوچ خواتین کی بازیابی کے لیے منگل کو کوئٹہ میں 'وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز' کے زیری اہتمام خواتین نے ایک احتجاجی ریلی نکالی تھی اور پریس کلب کوئٹہ کے سامنے مظاہرہ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG