رسائی کے لنکس

جلاوطن بلوچ رہنما مہران مری کے سوٹزرلینڈ میں داخلے پر تاحیات پابندی


مہران مری۔ فائل فوٹو

بلوچ ذرائع کے مطابق مہران مری نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے اور اُنہوں نے سوئس امیگریشن حکام سے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

سوئس حکومت نے جلاوطن بلوچ رہنما مہران مری پر زندگی بھر کیلئے سوٹزرلینڈ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

مہران مری جمعرات کے روز اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ہمراہ سوٹزرلینڈ کے شہر زیورک پہنچے۔ تاہم ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے اُنہیں روک لیا۔ باخبر ذرائع کے مطابق ہوائی اڈے پر سوٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ کے اہلکاروں نے اُن سے ملاقات کی اور آٹھ صفحوں پر مشتمل ایک دستاویز اُن کے حوالے کی جس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ اُنہیں سوٹزرلینڈ داخل ہونے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ سوئس حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مہران مری پر یہ تاحیات پابندی 9 نومبر کو لگائی گئی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ مہران مری اور اُن کے بہنوئی براہمداغ بگٹی کے حوالے سے سوئس حکام سے رابطے میں رہی ہے۔ براہمداغ بگٹی اسائلم یعنی پناہ لے کر جنیوا میں مقیم ہیں۔

ان دونوں بلوچ رہنماؤں نے اعلان کیا تھا کہ وہ سوٹزرلینڈ کے دارالحکومت میں 18 نومبر کو ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کریں گے جس میں یورپ کے مختلف ممالک سے بلوچ رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ بلوچ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مہران مری جنیوا روانہ ہوئے تھے تاہم راستے میں اُنہیں سوٹرلینڈ کے شہر زیورک میں روک لیا گیا۔

بلوچ ذرائع کے مطابق مہران مری نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے اور اُنہوں نے سوئس امیگریشن حکام سے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ اُنہوں نے امیگریشن حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ اُن کے کسی دہشت گرد گروپ سے رابطے کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور یہ تمام الزامات سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سوئس حکام کے حوالے کی جانے والی دستاویز میں براہمداغ بگٹی اور مہران مری کی کارروائیوں کی تمام تفصیلات فراہم کی گئی ہیں اور پاکستانی حکام نے سوئس حکام سے کہا ہے کہ ان دونوں بلوچ رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرنا بہت اہم ہے۔

مہران مری برطانوی شہری ہیں اور وہ جنیوا اور برسلز میں مسلسل تقریبات کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں بھی فعال رہے ہیں۔ یوں سوٹزرلینڈ میں داخلے کے سلسلے میں تاحیات پابندی سے اُن کو خاصا نقصان پہنچا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اُنہیں لندن میں بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد میں کوئی الزام عائد کئے بغیر ہی اُنہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

اُدھر باخبر اطلاعات کے مطابق لندن میں خان آف قلات میر سلیمان نے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین سے ملاقات کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG