رسائی کے لنکس

بلوچستان میں چکور اور مارخور کی نسل معدوم ہونے کا اندیشہ


بتایا جاتا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے بلوچستان بہت بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران، ماضی کے مقابلے میں بہت کم بارشیں ہوئی ہیں، جس کے باعث صوبے کے پہاڑی علاقوں اور جنگلوں میں رہنے والی جنگلی حیات پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

بلوچستان میں پاکستان کے قومی پرندے ’چکور‘ اور جانور ’ماخور‘ کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا۔ حکام کے بقول، اگر جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے مناسب پالیسی مرتب نہیں کی گئی اور تحفظ کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے تو بلوچستان کے یہ خوبصورت پرندے اور جانور صرف تصاویر میں نظر آئیں گے۔

محکمہٴ جنگلات اور جنگلی حیات کے ڈپٹی کنزرویٹیر، نیاز کاکڑ کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں سے بلوچستان بہت بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے باعث صوبے میں گزشتہ دو عشروں کے دوران، ماضی کے مقابلے میں بہت کم بارشیں ہوئی ہیں، جس کے باعث صوبے کے پہاڑی علاقوں اور جنگلوں میں رہنے والی جنگلی حیات پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اب ان علاقوں میں رہنے والے پرندوں اور جانوروں کو کھانے کے لئے خوراک اور پینے کے لئے پانی میسر نہیں آتا۔ زندگی کےلئے ضروری ہر دو چیزوں کے بغیر جانور اور پرندے زندہ رہ نہیں سکتے۔ اس لئے اب صوبے کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والا ہمارا قومی پرندہ جنگلی ’چکور‘ تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ اور اب اس کی جگہ ادویات اور سائنسی طریقے سے پیدا ہونے والے فارمی چکور نے لے لی ہے، جن کے فارم مختلف لوگوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں قائم کئے ہیں۔ وہاں سے پیدا ہونے والے چکور بازاروں میں فروخت ہوتے ہیں، جن کو بعض اوقات ہمارے ادارے کا عملہ قبضے میں لے کر پہاڑی علاقوں میں چھوڑ دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مارخور کی نسل کو بھی کم از کم بلوچستان میں خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس کی وجوہات ایک قدرت کی طرف سے ماحولیات میں تبدیلی اور بارشوں کا نہ ہونا ہے۔ دوسری بڑی وجہ ان قیمتی پرندوں اور جانوروں کا بے دریغ شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارخور پہلے صوبے کے مختلف اضلاع کے پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے۔ لیکن، لوگوں میں اس خوبصورت جانور کی شکار کے بارے میں مناسب معلومات نہ ہونے کے باعث اس کا بڑے پیمانے پر شکار ہوا جس سے اب یہ جانور کوئٹہ کے نیشنل پارک کے علاوہ باقی علاقوں میں ناپید ہوگیا ہے۔

کوئٹہ کے قریب، ہزار گنجی میں اب جانور صرف تقریباً دوہزار کی تعداد میں رہ گیا ہے۔ لیکن، ان کا بھی ایک تو شکار کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ بارشیں نہ ہونے کے باعث اُن کے لئے خوراک اور پانی کا حصول مشکل ہوگیا ہے۔

نیاز کاکڑ کے بقول، ’’چکور کی طرح بلوچستان کا ایک اور خوبصورت پرندہ، جسے مقامی اصطلاح میں سی سی کہا جاتا ہے۔ اُس کی صوبے میں بڑے پیمانے پر شکار کی گئی ہے جس کی وجہ سے اب یہ خوبصورت پرندے کی نسل بالکل ختم ہوگئی ہے‘‘۔

بلوچستان میں ہر سال وسطی ایشائی ریاستوں سے سات ہزار سے زائد تلور موسم سرما سے پہلے ضلع ژوب کے علاقوں سے گزرتے اور موسم بہار کے آغاز پر واپس وسطی ایشائی ریاستوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔

سنہ 2016 میں سپریم کورٹ نے ’تلور‘ کے شکار پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔ تاہم، وفاقی حکومت کی طرف سے اس فیصلے کے خلاف اپیل پر اعلیٰ عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے اس پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود پیمانے پر اس پرندے کے شکار کی اجازت دے دی ہے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے بھی 2015ء میں جنگلات اور جنگلی حیات کے غیر قانونی شکار پر پابندی کا قانون پاس کیا تھا، جس کے بعد سے حکام غیر قانونی شکار کرنے والوں سے لاکھوں روپے جرمانہ بھی وصول کر چکے ہیں۔ لیکن، اس کے باوجود، صوبے میں بعض وفاقی ادارے، قبائلی سربراہ اور دیگر اثر و رسوخ رکھنے والے صوبے کے مختلف علاقوں میں اب بھی قیمتی پرندوں کا شکار کرتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG