رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: کان کے حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی


فائل فوٹو

بلوچستان میں کوئلہ کی دو مختلف کانوں میں ہونے والے حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر اتوار کو 23 ہوگئی جب کہ حکام کے بقول امدادی کارروائیاں مکمل ہوگئی ہیں اور مزدوروں کی لاشوں کو ان کے آبائی علاقوں کو بھجوا دیا گیا ہے۔

کو ل مائنز انسپکڑ افتخار احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ روز (ہفتے کو) دن بارہ بجے مارواڑ کے علاقے میں کوئلے کی ایک کان میں میتھین گیس بھر نے سے زوردار دھماکہ ہوا جس سے کان بیٹھ گئی اور اس میں 14 کانکن پھنس گئے۔

ان کانکنوں کو نکالنے کےلئے دو دیگر مزدور کان میں داخل ہوگئے جن کے اوپر مٹی کا تودہ گرا جس سے وہ بھی ہلاک ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان واقعات کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور رات گئے تک اس کان سے 16 محنت کشوں کی لاشوں اور سات زخمیوں کو نکال لیا گیا جس کے بعد کان کو بند کر کے سیل کردیا گیا ہے۔

ان کے بقول واقعہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی میتوں کو اُن کے آبائی علاقے شانگلہ روانہ کردیا گیا۔

افتخار احمد کے مطابق اسی روز شام کو کوئلے کی ایک دوسری کان میں میتھین گیس بھر جانے سے دھماکہ ہوا اور کان میں 9 کانکن پھنس گئے تھے جن میں سے 7 کی لاشیں اور دوزخمیوں کو رات گئے نکال لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں حادثات میں زخمی ہونے والوں کو سول اسپتال کوئٹہ میں داخل کردیا گیا جبکہ ہلاک ہونے والے سات افراد کی میتوں کو سوات روانہ کر دیا گیا۔

افتخار نے بتایا ہے کہ ان حادثات کے بعد دونوں کانوں کو بند کردیا گیا ہے اور اب سیکرٹری کول مائنز کی منظوری کے بعد ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو ان دونوں واقعات کی تحقیقات کر کے رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔

بلوچستان کے پانچ اضلاع کوئٹہ، لورالائی، سبی، بولان اور ہرنائی میں کوئلے کے کروڑوں ٹن ذخائر ہیں جن کو بروئے کار لانے کے لئے ڈھائی ہزار سے زائد کانیں بنائی گئی ہیں جہاں سے 40 ہزار سے زائد مزدور سالانہ 90 لاکھ ٹن سے زیادہ کوئلہ نکالتے ہیں۔

ان کانوں میں اکثر و بیشتر حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ماہ ضلع قلات کے علاقے میں ایک کان میں دھماکے سے چھ کانکن جب کہ گزشتہ سال ستمبر میں ایک ہفتے کے دوران پیش آنے والے تین مختلف حادثات میں آٹھ کان کن ہلاک ہوگئے تھے۔

2011ء میں ایک کان کے اندر ہونے والے گیس کے دھماکے میں 50 مزدور ہلاک ہو گئے تھے جبکہ تقریباً ہر ماہ ہی کان سے کو ئلہ نکالی والی ٹرالی کے گرنے اور مٹی کے تودے گرنے کے درجنوں واقعات میں بھی اکثر وبیشتر کانکن ہلاک یا زخمی ہوتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG