رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان میں پبلک پرائیوٹ پارٹنر شب سے بے روزگاری پر قابو پایا جا سکتا ہے


بلوچستان کی گھریلو دست کاریاں، فائل فوٹو

26 سالہ محمد عامر ایم ایس سی پاس ہیں اور گزشتہ پانچ سال سے مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت کے لیے درخواستیں دینے کے باوجود وہ بے روزگار ہیں۔

محمد عام اگرچہ ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے کسی حد تک مایوس ہیں لیکن انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔

محمد عامر کا کہنا ہے کہ میں ویٹرنری ڈاکٹر بنناچاہتا تھا لیکن کوئٹہ کے ڈومیسائل کی وجہ سے مجھے ویٹرنری کالج میں داخلہ نہیں مل سکا کیونکہ کوئٹہ کی سیٹیں کم تھیں۔ جس کے بعد میں نے کالج میں داخلہ لیا اور زولوجی، جیالوجی اور کیمسڑی میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں 25 سے زیادہ سرکاری محکموں میں نوکری کے لئے درخواستیں دے چکا ہوں لیکن ابھی تک میں ملازمت حاصل نہیں کر سکا۔

عامر کا کہنا ہے کہ میر ے ساتھ 6 دوست اور بھی ہیں جنہوں نے نوکری کے لیے درخواستیں دیں لیکن انہیں بھی ابھی تک کوئی ملازمت نہیں مل سکی جس کی وجہ سے وہ مایوس ہیں لیکن میں اب بھی پرامید ہوں کہ ایک دن مجھے سرکاری ملازمت مل جائے گی۔

بلوچستان کے موجودہ وزیر اعلیٰ جام کمال خان اور ان کی نئی جماعت نے، جس کے وہ سربراہ بھی ہیں، اس سال کے عام انتخابات کے دوران اپنی پارٹی کی انتخابی مہم اور پارٹی منشور میں اعلان کیا تھا کہ اگر صوبے میں ان کی حکومت قائم ہوئی تو وہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقعے پیدا کریں گے اور اس سلسلے میں انہوں نے پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ کا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذریعے نوجوانوں کو بہتر روزگار کے مواقعے فراہم کئے جائیں گے۔

گو کہ مخلوط حکومت کو قائم ہوئے تقریباً چار ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے وعدے پر عمل شروع نہیں ہو سکا۔

کوئٹہ میں نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’کوئٹہ آن لائن‘ کے عہدیدار ریاض بلوچ کے مطابق اگر ہم نوجوانوں کو تربیت دیں تو مختلف ذرائع سے ان کے لیے روزگارکے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں اور نوجوانوں کو چائیے کہ وہ بھی صرف سرکاری نوکریوں کا انتظار نہ کریں بلکہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنے لیے بہتر روزگار شروع کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں نوجوان مختلف یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کر رہے ہیں لیکن انہیں روزگار کے مواقعے نہیں مل رہے، حکومت کو چائیے کہ وہ ملک میں اعلیٰ فنی تعلیم کے ادارے قائم کریں جہاں وہ کوئی ہنر سیکھ کر باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔

ریاض بلوچ کہتے ہیں کہ صوبے میں نوجوانوں کے امور کا ایک محکمہ موجود ہے جس کی باقاعدہ فنڈنگ ہوتی ہے اگر یہ محکمہ نوجوانوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو سپورٹ کرے تو وہ انہیں فنی تربیت دینے کا انتظام کرسکتی ہیں۔

چیمبر آف کامرس بلوچستان کے چیف پیٹرن فاروق خلجی کا کہنا ہے کہ بلوچستان حکومت کو چاہیے کہ نجی شعبے کو ساتھ ملا کر چلنے کے لئے چیمبر آف کامرس کو اعتماد میں لے اور مشاورت کے بعد نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے متعلق بہتر لائحہ عمل ترتیب دے اور اس سلسلے میں ہماری تجاویز کو اہمیت دی جائے۔

فاروق خلجی نے حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان سے ملحقہ سرحدوں پر لیگل ٹریڈ پر ٹیکس میں کمی، پبلک پرائیوٹ پارٹنر شب کے ذریعے سمال انڈسٹریز کے فروغ اور ایسی صنعتیں قیام کی جائیں جس میں مقامی نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر روزگار کے مواقعے دستیاب ہو سکیں۔ حکومت بلوچستان کی حکومت کلچر کو فروغ دے اور بلوچ،پشتون ثقافتی ہینڈ کرافٹس کو عالمی اور ملکی سطح پر متعارف کروائے۔

اس سلسلے میں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ترجمان چوہدری شبیر نے بتایا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اپنے منشور پر قائم ہے اور نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنا عہدہ سنھبالتے ہی سرکاری محکموں میں بھرتی کے احکامات جاری کئے تاہم بھرتی پہلے جیسے طریقے پر نہیں ہو گی اور نہ ہی کوئی خرید و فروخت ہو گی۔

چوہدری شبیر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں حکومت 17 ہزار سے زیادہ خالی اسامیوں پر بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرے گی۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لئے زراعت اور لائیو اسٹاک کے حوالے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ سی پیک کے منصوبے کے تحت صوبے میں ہزاروں کی تعداد میں روزگار کے نئے مواقعے پیدا ہوں گے جس سے صوبے میں بے روزگاری کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

نوجوانوں کی فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بلوچستان کو آئین کے مطابق وفاقی محکموں کی اسامیوں میں اس کا کوٹہ مل جائے تو ہزاروں کی تعداد میں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقعے مل سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG