رسائی کے لنکس

بلوچستان: ایف سی اہلکاروں پر دو حملوں میں چھ زخمی


(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکاروں کی گاڑیوں پر ہونے والے دوبم حملوں میں چھ اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں کوئٹہ کے ملٹری اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔

لیویز حکام کے مطابق پیر کی صبح فرنٹیر کور بلوچستان کے اہلکار ایک گاڑی میں ضلع مستونگ میں معمول کی گشت پر تھے کہ اسپیلنجی کے علاقے میں نا معلوم افراد کی طرف سے سڑک کے کنارے نصب کیے گئے دیسی ساختہ بم سے گاڑی پرحملہ کیا گیا جس سے چار اہلکار زخمی ہو گئے۔

دھماکے سے گاڑی کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے، زخمیوں کو فوری طور پر دوسری گاڑی میں مستونگ اور بعد میں کو ئٹہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی ہے۔

گزشتہ روز (اتوار) کو بھی ضلع کوئٹہ کے علاقے مارگٹ میں ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم کے ذریعے ’ایف سی‘ کی گاڑی پر حملہ کیا گیا جس میں فرنٹیر کور بلوچستان کے دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے جنہیں بعد میں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا تھا۔

ان دونوں واقعات کی ذمہ داری کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم ضلع مستونگ کے علاقے میں سیکورٹی فورسز اور دیگر واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکر ی تنظیمیں قبول کر تی رہتی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ضلع مستونگ میں سینیٹ کے ڈپٹی چئیر مین مولانا عبدالغفور حیدری پر ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 28 افراد ہلاک اورمولانا حیدری سمیت 42 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس حکام نے دھماکے کی تحقیقات کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں، اس حملے کی ذمہ داری داعش نے اپنے ویب سائیڈ عماق کے ذریعے قبول کی تھی۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال کوئٹہ میں ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں امن امان کو برقرار رکھنے کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں فرنٹیر کور بلوچستان نے درجن سے زائد چوکیاں قائم کی تھیں، تاہم پاک افغان سرحد پر چمن کے علاقے میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد کو ئٹہ شہر میں ایف سی کی بیشتر چوکیاں خالی کر دی گئی ہیں۔

محکمہ داخلہ کے حکام کے مطابق چوکیوں پر تعینات ان جوانوں کو پاک افغان سرحد پر بھیج دیا گیا ہے اور حالات معمول پر آنے کے بعد ان کو دوبارہ شہر میں تعینات کیا جائیگا۔

قدرتی وسائل سے مالا مال اس جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں بعض بلوچ عسکری کالعدم تنظیمیں صوبے کے ساحل اور وسائل پر مکمل اختیار کے لیے گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے جدوجہد کر رہی ہیں اس دوران سیکورٹی فورسز، دوسرے صوبوں سے بلوچستان میں محنت مزدوری اور یہاں آباد ہونے والے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس میں اب تک ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG