رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: ریکارڈ بارشوں سے بھاری نقصانات،مگر خشک سالی کا خاتمہ


شدید بارشوں کے بعد بلوچستان کے کئی علاقوں میں سیلابی پانی کھڑا ہے۔

رواں سال بلوچستان میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں جس سے جہاں طویل خشک سالی کا خاتمہ ہوا, وہیں متعدد علاقوں میں سیلاب آنے سے جانی اور مالی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

نصیر آباد کے گاؤں محمد خان میں سیلابی ریلے ماہی موراں کے گھر کا سامان، مال مویشی اور جمع پونجی سب کچھ بہا کر لے گئے۔ وہ اب اپنے بچوں کے ساتھ نہر کے کنارے ایک چھونپڑی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہیں بچا ہے۔

ماہی موراں کے بقول ”گزشتہ ماہ جب رات کے وقت تیز بارشوں کے بعد پانی آیا تو ہم کسی طرح سے جان بچا کر نہر کے کنارے پہنچے۔ پانی ہمارے صندوق، ضروری سامان، پیسے اور دوسری چیزیں بھی بہا کر لے گیا“۔

اپریل کے مہینے میں نصیر آباد ڈویژن میں تیز بارشیں ہوئیں جس سے ضلع نصیر آباد کے گوٹھ رئیس محمد اور محمد خان واجہ میں 120 گھروں کو نقصان پہنچا۔ مقامی افراد کے مطابق پٹ فیڈر کینال کے آس پاس کے تین دیہاتوں میں 6 سو ایکڑ پر گندم اور چنے کی کھڑی فصل بھی تباہ ہو گئی۔

ماہی موراں اور گاؤں کے دوسرے متاثرین آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے بچوں میں اسہال اور دوسرے امراض پھیل رہے ہیں۔

علاقے کے رئیس مہیم خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلاب سے زیادہ نقصان چھوٹے کاشت کاروں کو پہنچا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس نقصان کا تخمینہ لگا کر ازالہ کرے۔ مہیم خان کے بقول ”حکومت پٹ فیڈر کینال کو کاٹ کر سیلابی پانی کو راستہ دے۔ اگر حکومت ایسا کرے تو زمینداروں کو بڑے نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا“۔

دوسری جانب حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی پیکج کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی اور مشیر تعلیم محمد خان لہڑی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیلاب آنے کے بعد حکومت نے سب سے پہلے لوگوں کی جانوں کو بچایا۔ اس کے بعد متاثرہ دیہاتوں میں خیمے اور خوردنی اشیاء پہنچائی گئیں۔

محمد خان لہڑی کے مطابق ڈپٹی کمشنر اور تحصیل دار کی مدد سے سروے کا کام جاری ہے تاکہ لوگوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے۔ اس کے بعد حکومت متاثرین کو خصوصی پیکیج فراہم کرے گی“۔

شدید بارشوں اور سیلابوں سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والی ماہی موراں
شدید بارشوں اور سیلابوں سے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والی ماہی موراں

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلوں کے باعث بلوچستان میں بھی رواں سال غیر متوقع شدید بارشوں سے سیلاب آئے ہیں جن سے نصیر آباد ڈویژن، نوشکی، پشین اور قلعہ عبداللہ میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG